آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 295
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 295 باب ششم بیماروں کو اپنے دائیں بائیں بٹھلا کر ایک ہی نظر سے تندرست کر دیتے تھے اور بعض جو مشق میں کچھ کمزور تھے وہ ہاتھ لگا کر یا بیمار کے کپڑے کو چھو کر شفا بخشتے تھے۔اس مشق میں عامل عمل کے ا ا وقت کچھ ایسا احساس کرتا ہے کہ گویا اس کے اندر سے بیمار پر اثر ڈالنے کے وقت ایک قوت نکلتی ہے اور بسا اوقات بیمار کو بھی یہ مشہور ہوتا ہے کہ اس کے اندر سے ایک زہریلا مادہ حرکت کر کے سفلی اعضا کی طرف اترتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ نگلی منعدم ہو جا تا ہے۔اس علم میں اسلام میں بہت سی تالیفیں موجود ہیں اور میں خیال کرتا ہوں کہ ہندوؤں میں بھی اس کی کتابیں ہونگی۔حال میں جو انگریزوں نے فن مسمریزم نکالا ہے حقیقت میں وہ بھی اسی علم کی ایک شاخ ہے۔انجیل پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح کو بھی کسی قدر اس علم میں مشق تھی مگر کامل نہیں تھے۔اس وقت کے لوگ سادہ اور اس علم سے بے خبر تھے۔اسی وجہ سے اس زمانہ میں یہ عمل اپنی حد سے زیادہ قابل تعریف سمجھا گیا تھا مگر پیچھے سے جوں جوں اس علم کی حقیقت کھلتی گئی لوگ اپنے علوم عتقاد سے تنزل کرتے گئے۔یہاں تک کہ بعضوں نے یہ رائے ظاہر کی کہ ایسی مشقوں سے بیماروں کو چنگا کرنا یا مجنونوں کو شفا بخشا کچھ بھی کمال کی بات نہیں بلکہ اس میں ایماندار ہونا بھی ضروری نہیں۔چہ جائیکہ نبوت یا ولایت پر یہ دلیل ہو سکے۔ان کا یہ بھی قول ہے کہ عمل سلب امراض بدنیہ کی کامل مشتق اور اُسی شغل میں دن رات اپنے تئیں ڈالے رکھنا روحانی ترقی کیلئے خت مضر ہے اور ایسے شخص کے ہاتھ سے روحانی تربیت کا کام بہت ہی کم ہوتا ہے اور قوت مئو اُس کے قلب کی بغایت درجہ گھٹ جاتی ہے۔خیال ہو سکتا ہے کہ اسی وجہ سے حضرت مسیح علیہ السلام اپنی روحانی تربیت میں بہت کمزور نکلے جیسا کہ پادری ٹیلر صاحب جو باعتبار عهده و نیز بوجه لیاقت ذاتی کے ایک ممتاز آدمی معلوم ہوتے ہیں۔وہ نہایت افسوس سے لکھتے ہیں کہ مسیح کی روحانی تربیت بہت ضعیف اور کمزور ثابت ہوتی ہے اور اُن کے صحبت یا فتہ لوگ جو حواریوں کے نام سے موسوم تھے اپنے روحانی تربیت یافتہ ہونے میں اور انسانی قوتوں کی پوری تکمیل سے کوئی اعلیٰ درجہ کا نمونہ دکھلا نہ سکے۔(کاش حضرت مسیح نے اپنے ظاہری شغل سلب امراض کی طرف کم توجہ کی ہوتی اور وہی توجہ اپنے حواریوں کی باطنی کمزوریوں اور بیماریوں پر ڈالتے خاص کر یہودا