آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 293 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 293

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 293 باب ششم حقائق دینیہ ہے تو ایسا مشکلک خواہ عیسائی ہو خواہ آریہ اور خواہ پر ہمو ہو، خواہ دہر یہ اپنی طرز اور طور پر امتحان کر کے اپنی تسلی کر سکتا ہے اور ہم تسلی کر دینے کے ذمہ دار ہیں۔بشرطیکہ کوئی طالب حق ہماری طرف رجوع کرے۔بائبل میں جس قدر پاک صداقتیں ہیں یا حکماء کی کتابوں میں جس قدرحق اور حکمت کی باتیں ہیں جن پر ہماری نظر پڑی ہے یا ہندوؤں کے وید وغیرہ میں جو اتفاقاً بعض سچائیاں درج ہو گئی ہیں یا باقی رہ گئی ہیں جن کو ہم نے دیکھا ہے یا صوفیوں کی صد ہا کتابوں میں جو حکمت و معرفت کے نکتے ہیں جن پر ہمیں اطلاع ہوتی ہے اُن سب کو ہم قرآن شریف میں پاتے ہیں اور اس کامل استقراء سے جو تمیں برس کے عرصہ سے نہایت عمیق اور محیط نظر کے ذریعہ سے ہم کو حاصل ہے، نہایت قطع اور یقین سے ہم پر یہ بات کھل گئی ہے کہ کوئی روحانی صداقت جو تکمیل نفس اور دماغی اور دلی قومی کی تربیت کے لئے اثر رکھتی ہے ایسی نہیں جو قرآن شریف میں درج نہ ہو اور یہ صرف ہمارا ہی تجر بہ نہیں بلکہ یہی قرآن شریف کا دعوی بھی ہے جس کی آزمائش نہ فقط میں نے بلکہ ہزار ہا علماء ابتداء سے کرتے آئے اور اس کی سچائی کی گواہی دیتے آئے ہیں۔پھر چوتھا معجزہ قرآن شریف کا اس کی روحانی تاثیرات ہیں جو ہمیشہ اس میں محفوظ چلی آتی ہیں یعنی یہ کہ اس کی پیروی کرنے والے قبولیت الہی کے مراتب کو پہنچتے ہیں اور مکالمات الہیہ سے مشرف کئے جاتے ہیں۔خدائے تعالیٰ ان کی دعاؤں کو سنتا اور انہیں محبت اور رحمت کی راہ سے جواب دیتا ہے اور بعض اسرار غیبیہ پر نبیوں کی طرح ان کو مطلع فرماتا ہے اور اپنی تائید اور نصرت کے نشانوں سے دوسری مخلوقات سے انہیں ممتاز کرتا ہے یہ بھی ایسا نشان ہے کہ جو قیامت تک امت محمدیہ میں قائم رہے گا اور ہمیشہ ظاہر ہوتا چلا آیا ہے اور اب بھی موجود در تحقق الوجود ہے۔مسلمانوں میں سے ایسے لوگ اب بھی دنیا میں پائے جاتے ہیں کہ جن کو اللہ جلشانہ اپنی تائیدات خاصہ سے موئید فرما کر الہامات صحیحہ وصادقہ و مبشرات و مکاشفات غیبیہ سے سرفراز فرماتا ہے۔اب اے حق کے طالبو اور بچے نشانوں کے بھوک اور پیاسو! انصاف سے دیکھو اور ڈرا پاک نظر