آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 292 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 292

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 292 باب ششم خارق عادت تصرف تھا جو خاص خدائے تعالیٰ کے ہاتھ نے کیا۔قرآن شریف میں خدائے تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے ان کو مردہ پایا اور زندہ کیا اور جہنم کے گڑھے میں گرتے دیکھا تو اس ہولناک حالت سے چھڑایا۔بہار پایا اور انہیں اچھا کیا۔اندھیرے میں پایا انہیں روشنی بخشی۔اور خدائے تعالیٰ نے اس اعجاز کے دکھلانے کے لئے قرآن شریف میں ایک طرف عرب کے لوگوں کی وہ خراب حالتیں لکھی ہیں جو اسلام سے پہلے وہ رکھتے تھے اور دوسری طرف ان کے وہ پاک حالات بیان فرمائے ہیں جو اسلام لانے کے بعد ان میں پیدا ہو گئے تھے کہ تا جو شخص ان پہلے حالات کو دیکھے جو کفر کے زمانہ میں تھے اور پھر مقابل اس کے وہ حالت پڑھے جو اسلام لانے کے بعد ظہور پذیر ہوگئی تو ان دونوں طور کے سوانح پر مطلع ہونے سے یہ یقین کامل سمجھ لیوے گا کہ ی تبدیلی ایک خارق عادت تبدیلی ہے جسے معجزہ کہنا چاہئے۔پھر تیسرا معجزہ قرآن شریف کا جو ہماری نظروں کے سامنے موجود ہے اس کے حقائق و معارف و لطائف و نکات ہیں جو اس کی بلیغ و فصیح عبارات میں بھرے ہوئے ہیں اس معجزہ کو قرآن شریف میں بڑی ھند ومد سے بیان کیا گیا ہے اور فرمایا ہے کہ اگر تمام جن وانس اکٹھے ہو کر اس کی نظیر بنانا چاہیں تو اُن کے لئے ممکن نہیں یہ معجزہ اس دلیل سے ثابت اور تحقیق الوجود ہے کہ اس زمانہ تک کہ تیرہ سو برس سے زیادہ گزر رہا ہے باوجود یکہ قرآن شریف کی منادی دنیا کے ہر ایک نواح میں ہو رہی ہے اور بڑے زور سے هَلْ مِنْ مُعَارِض کا نقارہ بجایا جاتا ہے مگر کبھی کسی طرف سے آواز نہیں آئی۔پس اس سے اس بات کا صریح ثبوت ملتا ہے کہ تمام انسانی قوتیں قرآن شریف کے مقابلہ و معارضہ سے عاجز ہیں بلکہ اگر قرآن شریف کی صد با خوبیوں میں سے صرف ایک خوبی کو پیش کر کے اس کی نظیر مانگی جائے تو انسان ضعیف البیان سے یہ بھی نا ممکن ہے کہ اس ایک جزو کی نظیر پیش کر سکے مثلاً قرآن شریف کی خوبیوں میں سے ایک یہ بھی خوبی ہے کہ وہ تمام معارف دینیہ پر مشتمل ہے اور کوئی دینی سچائی جو حق اور حکمت سے تعلق رکھتی ہے، ایسی نہیں جو قرآن شریف میں پائی نہ جاتی ہو مگر ایسا شخص کون ہے کہ کوئی دوسری کتاب ایسی دکھلائے جس میں یہ صفت موجود ہو اور اگر کسی کو اس بات میں شک ہو کہ قرآن شریف جامع تمام