آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 291
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 291 باب ششم جزیرہ عرب کفر اور کافروں سے صاف کیا جائے گا اور تمام عرب کی حکومت مومنوں کے ہاتھ میں آجائے گی اور خدائے تعالیٰ دین اسلام کو عرب کے ملک میں ایسے طور سے جما دے گا کہ پھر بت پرستی کبھی پیدا نہیں ہوگی اور حالت موجودہ جو خوف کی حالت ہے بلکلی امن کے ساتھ بدل جائے گی اور اسلام قوت پکڑے گا اور غالب ہوتا چلا جائے گا۔یہاں تک کہ دوسرے ملکوں پر اپنی نصرت اور فتح کا سایہ ڈالے گا اور دور دور تک اس کی فتوحات پھیل جائیں گی اور ایک بڑی بادشاہت قائم ہو جائے گی جس کا اخیر دنیا تک زوال نہیں ہو گا۔اب جو شخص پہلے ان دونوں مقدمات پر نظر ڈال کر معلوم کر لیوے کہ وہ زمانہ جس میں یہ پیشگوئی کی گئی ، اسلام کے لئے کیسی تنگی اور نا کامی اور مصیبت کا زمانہ تھا اور جو پیشنگوئی کی گئی وہ کس قدر حالت موجودہ سے مخالف اور خیال اور قیاس سے نہایت بعید بلکہ صریح محالات عادیہ سے نظر آتی تھی۔پھر بعد اس کے اسلام کی تاریخ پر جو دشمنوں اور دوستوں کے ہاتھ میں موجود ہے ایک منصفانہ نظر ڈالے کہ کیسی صفائی سے یہ پیشگوئی پوری ہوگئی اور کس قدر دلوں پر ہیبت ناک اثر اس کا پڑا اور کیسے مشارق اور مغارب میں تمام تر قوت اور طاقت کے ساتھ اس کا ظہور ہوا تو اس پیشگوئی کو یقینی اور قطعی طور پر چشم دید معجزہ قرار دے گا جس میں اس کو ایک ذرہ بھی شک وشبہ نہیں ہوگا۔پھر دوسرا معجزہ قرآن شریف کا جو ہمارے لئے حکم مشہو دو محسوس کا رکھتا ہے وہ عجیب و غریب تبدیلیاں ہیں جو اصحاب رسول اللہ میلے میں بہرکت پیروی قرآن شریف و اثر صحبت آنحضرت ظہور میں آئیں۔جب ہم اس بات کو دیکھتے ہیں کہ وہ لوگ مشرف با سلام ہونے سے پہلے کیسے اور کس طریق اور عادت کے آدمی تھے اور پھر بعد شرف صحبت آنحضرت ه واتباع قرآن شریف کس رنگ میں آگئے اور کیسے اخلاق میں، عقائد میں چلن میں، گفتار میں ، رفتار میں، کردار میں اور اپنی جمیع عادات میں خبیث حالت سے منتقل ہو کر نہایت طیب اور یاک حالت میں داخل کئے گئے تو ہمیں اس تاثیر عظیم کو دیکھ کر جس نے ان کے زنگ خوردہ وجودوں کو ایک عجیب تازگی اور روشنی اور چک بخش دی تھی اقرار کرنا پڑتا ہے کہ یہ تصرف ایک الله