آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 286 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 286

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 286 باب ششم کرتے ہیں ) کوئی امر مانع نہیں ہوا مگر یہ کہ ان نشانیوں کو انگلوں نے تو جھٹلایا۔بہر حال ان دونوں صورتوں میں نشانوں کا آنا ثابت ہوتا ہے۔کیونکہ اگر یہ معنی ہوں کہ ہم نے ساری نشانیاں بودجه تکذیب اہم گذشتہ نہیں بھیجیں تو اس سے بعض نشانوں کا بھیجنا ثابت ہوتا ہے جیسے مثلاً اگر کوئی کہے کہ میں نے اپنا سارا مال زید کو نہیں دیا تو اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ اس نے کچھ حصہ اپنے مال کا زید کوضرور دیا ہے اور اگر یہ معنے لیں کہ بعض خاص نشان ہم نے نہیں بھیجے تو بھی بعض دیگر کا بھیجنا ثابت ہے۔مثلاً اگر کوئی کہے کہ بعض خاص چیزیں میں نے زید کو نہیں دیں تو اس سے صاف پایا جائے گا کہ بعض دیگر ضرور دی ہیں۔بہر حال جو شخص اول اس آیت کے سیاق و سباق کی آیتوں کو دیکھے کہ کیسی وہ دونوں طرف سے عذاب کے نشانوں کا قصہ بتلا رہی ہیں اور پھر ایک دوسری نظر اُٹھاوے اور خیال کرے کہ کیا یہ معنی صحیح اور قرین قیاس ہیں کہ خدائے تعالی کے تمام نشانوں اور عجائب کاموں کی جو اس کی بے انتہا قدرت سے وقتا فوقتا پیدا ہونے والے اور غیر محدود ہیں پہلے لوگ اپنے محدود زمانہ میں تکذیب کر چکے ہوں۔اور پھر ایک تیسری نظر منصفانہ سے کام لے کر سوچے کہ کیا اس جگہ تخویف کے نشانوں کا ایک خاص بیان ہے یا تبشیر اور رحمت کے نشانوں کا بھی کچھ ذکر ہے اور پھر ذرا چوتھی نگاہ آلآیات کے دل پر بھی ڈال دیوے کہ وہ کن معنوں کا افادہ کر رہا ہے تو اس چار طور کی نظر کے بعد بجز اس کے کہ کوئی تعصب کے باعث حق پسندی سے بہت دور جا پڑا ہو ہر ایک حص اپنے اندر سے نہ ایک شہادت بلکہ ہزاروں شہادتیں پائے گا کہ اس جگہ نفی کا حرف صرف نشانوں کی ایک قسم خاص کی نفی کیلئے آیا ہے جس کا دوسری اقسام پر کچھ تر نہیں بلکہ اس سے ان کا تحقق الوجود ہونا ثابت ہو رہا ہے اور ان آیات میں نہایت صفائی سے اللہ جل شانہ بتلا رہا ہے کہ اس وقت تخویفی نشان جن کی یہ لوگ درخواست کرتے ہیں صرف اس وجہ سے نہیں بھیجے گئے کہ پہلی امتیں ان کی تکذیب کر چکی ہیں۔سو جونشان پہلے رڈ کئے گئے اب باربارا نہیں کو نازل کرنا کمزوری کی نشانی ہے اور غیر محد و دقد رتوں والے کی شان سے بعید۔پس ان آیات میں یہ صاف اشارہ ہے کہ عذاب کے نشان ضرور نازل ہوں گے مگر اور رنگوں میں۔یہ کیا ضرورت ہے کہ وہی نشان حضرت موسیٰ" کے یا وہی نشان حضرت نوح