آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 285 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 285

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 285 باب ششم دوسرے معنی کسی طرح درست نہیں۔کیونکہ آیت ممدوحہ بالا کے یہ سمجھ لینا کہ تمام انواع واقسام کے وہ تخویفی نشان جو ہم بھیج سکتے ہیں اور تمام وہ وراء الورا تعذیبی نشان جن کے بھیجنے پر غیر محدود طور پر ہم قادر ہیں اس لئے ہم نے نہیں بھیجے کہ پہلی امتیں اُس کی تکذیب کر چکی ہیں۔یہ معنے سراسر باطل ہیں۔کیونکہ ظاہر ہے کہ پہلی اُمتوں نے انہیں نشانوں کی تکذیب کی جو انہوں نے دیکھے تھے وجہ یہ کہ تکذیب کیلئے یہ ضرور ہے کہ جس چیز کی تکذیب کی جائے۔اول اس کا مشاہدہ بھی ہو جائے۔جس نشان کو ابھی دیکھا ہی نہیں اس کی تکذیب کیسی حالانکہ نادیدہ نشانوں میں سے ایسے اعلیٰ درجہ کے نشان بھی تحت قدرت باری تعالی ہیں جس کی کوئی انسان تکذیب نہ کر سکے اور سب گردنیں اُن کی طرف جھک جائیں۔کیونکہ خدائے تعالیٰ ہر ایک رنگ کا نشان دکھلانے پر قادر ہے اور پھر چونکہ نشان ہائے قدرت ہاری غیر محدود اور غیر متناہی ہیں تو پھر یہ کہنا کیونکر درست ہو سکتا ہے کہ محدود زمانہ میں وہ سب دیکھے بھی گئے اور ان کی تکذیب بھی ہوگئی۔وقت محدود میں تو وہی چیز دیکھی جائے گی جو محدود ہوگی۔بہر حال اس آیت کے یہی معنی صحیح ہوں گے کہ جو بعض نشانات پہلے کفار دیکھ چکے تھے اور ان کی تکذیب کر چکے تھے۔ان کا دوبارہ بھیجنا عبث سمجھا گیا۔جیسا کہ قرینہ بھی انہیں معنوں پر دلالت کرتا ہے یعنی اس موقعہ پر جو ناقہ شمود کا خدائے تعالیٰ نے ذکر کیا ہے وہ ذکر ایک بھاری قرینہ اس بات پر ہے کہ اس جگہ گذشتہ اور رڈ کر وہ نشانات کا ذکر ہے جو تخویف کے نشانوں میں سے تھے اور یہی تیسرے معنی ہیں جو صحیح اور درست ہیں۔پھر اس جگہ ایک اور بات منصفین کے سوچنے کے لائق ہے جس سے اُن پر ظاہر ہوگا کہ آیت وَمَا مَنَعَتَ أَن تُريل بالايت الخ (بنی اسرائیل: ۶۰) سے ثبوت معجزات ہی پایا جاتا ہے نہ فی معجزات کیونکہ الایت کے لفظ پر جو الف لام واقعہ ہے وہ بموجب قواعد نحو کے دو صورتوں سے خالی نہیں۔یا کل کے معنے دے گا یا خاص کے اگر کل کے معنے دے گا تو یہ معنے گئے جائیں گے کہ ہمیں کل معجزات کے بھیجنے سے کوئی امر مانع نہیں ہوا مگر اگلوں کا ان کو جھٹلا نا اور اگر خاص کے معنی دے گا تو یہ معنی ہونگے کہ ہمیں ان خاص نشانیوں کے بھیجنے سے (جنہیں منکر طلب