آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 284
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 284 باب ششم اب جاننا چاہئے کہ خدا تعالیٰ نے اس آیت میں جو معترض نے بصورت اعتراض پیش کی ہے صرف تخویف کے نشانوں کا ذکر کیا ہے۔جیسا کہ آیت وَمَا نَرْسِلُ بِالايت إلَّا تَخْوِيْفا (بنی اسرائیل: ۶۰) سے ظاہر ہو رہا ہے۔کیونکہ اگر خدائے تعالیٰ کے کل نشانوں کو قہری نشانوں میں ہی محصور کجھ کر اس آیت کے یہ معنی کئے جائیں کہ ہم تمام نشانوں کو محض تخویف کی غرض سے ہی بھیجا کرتے ہیں اور کوئی دوسری غرض نہیں ہوتی۔تو یہ معنی یہ بداہت باطل ہیں۔جیسا کہ ابھی بیان ہو چکا ہے کہ نشان دو غرضوں سے بھیجے جاتے ہیں یا تخویف کی غرض سے یا تبشیر کی غرض سے۔انہیں دو قسموں کو قرآن شریف اور بائیبل بھی جابجا ظاہر کر رہی ہے۔پس جب که نشان دو قسم کے ہوئے تو آیت ممدوحہ بالا میں جولفظ الایات ہے (جس کے معنی وہ نشانات ) بهر حال اسی تاویل پر بصحت منطبق ہو گا کہ نشانوں سے قہری نشان مراد ہیں کیونکہ اگر یہ معنی نہ لئے جائیں تو پھر اس سے یہ لازم آتا ہے کہ تمام نشانات جو تحت قدرت الہی داخل ہیں۔تخویف کی قسم میں ہی محصور ہیں حالانکہ فقط تخویف کی قسم میں ہی سارے نشانوں کا حصر سمجھنا سراسر خلاف واقعہ ہے کہ جو نہ کتاب اللہ کی رو سے اور نہ عقل کی رو سے اور نہ کسی پاک دل کے کانشنس کی رو سے درست ہو سکتا ہے۔اب چونکہ اس بات کا صاف فیصلہ ہو گیا کہ نشانوں کی دو قسموں میں سے صرف تخویف کے نشانوں کا آیات موصوفہ بالا میں ذکر ہے تو یہ دوسرا امر تنقیح طلب باقی رہا کہ کیا اس آیت کے (جو مَا مَنَعَنا الخ ہے ) یہ معنی سمجھنے چاہئیں کہ تخویف کا کوئی نشان خدائے تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر ظاہر نہیں کیا یا یہ معنی سمجھنے چاہئیں کہ تخویف کے نشانوں میں سے وہ نشان ظاہر نہیں کئے گئے جو پہلی اُمتوں کو دکھلائے گئے تھے اور یا یہ تیسرے معنی قابل اعتبار ہیں کہ دونوں قسم کے تخویف کے نشان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے ظاہر ہوتے رہے ہیں۔بجز اُن خاص قسم کے بعض نشانوں کے جن کو پہلی پہلی امتوں نے دیکھ کر جھٹلا دیا تھا اور ان کو معجزہ نہیں سمجھا تھا۔سو واضح ہو کہ آیات متنازعہ فیہا پر نظر ڈالنے سے تمام تر صفائی کھل جاتا ہے کہ پہلے اور