آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 283
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 283 باب ششم اور تبشیر کے نشانوں سے ڈرانا اور دھمکا نا مقصود نہیں ہوتا بلکہ اپنے اُن مطیع بندوں کو مطمئن کرنا اور ایمانی اور یقینی حالات میں ترقی دینا اور ان کے مضطرب سینہ پر دست شفقت و تسلی رکھنا مقصود ، ہوتا ہے۔سو مومن قرآن شریف کے وسیلہ سے ہمیشہ تبشیر کے نشان پاتا رہتا ہے اور ایمان اور یقین میں ترقی کرنا جاتا ہے تبشیر کے نشانوں سے مومن کو تسلی ملتی ہے اور وہ انضطراب جو فطرتنا انسان میں ہے جاتا رہتا ہے اور سکیعت دل پر نازل ہوتی ہے۔مومن ببرکت اتباع کتاب اللہ اپنی عمر کے آخری دن تک تبشیر کے نشانوں کو پاتا رہتا ہے اور تسکین اور آرام بخشنے والے نشان اس پر نازل ہوتے رہتے ہیں نا وہ یقین اور معرفت میں بے نہایت ترقیاں کرتا جائے اور حق الیقین تک پہنچ جائے اور شیر کے نشانوں میں ایک لطف یہ ہوتا ہے کہ جیسے مومن ان کے نزول سے یقین اور معرفت اور قوت ایمان میں ترقی کرتا ہے ایسا ہی وہ بوجہ مشاہدہ آلاء و نعماء الہی واحسانات ظاہرہ و باطنه و جلیه و خفیہ حضرت باری عزاسمہ جو تبشیر کے نشانوں میں بھرے ہوئے ہوتے ہیں محبت و عشق میں بھی دن بدن بڑھتا جاتا ہے۔سو حقیقت میں عظیم الشان اور قوی الاثر اور مبارک اور موصل الی المقصو د تبشیر کے نشان ہی ہوتے ہیں جو سالک کو معرفتِ کا ملہ اور محبت ذاتیہ کے اس مقام تک پہنچا دیتے ہیں جو اولیا اللہ کے لئے منتہی المقامات ہے اور قرآن شریف میں تبشیر کے نشانوں کا بہت کچھ ذکر ہے یہاں تک کہ اس نے اُن نشانوں کو محمد وو نہیں رکھا بلکہ ایک دائمی وعدہ دے دیا ہے کہ قرآن شریف کے سچے متبع ہمیشہ ان نشانوں کو پاتے رہیں گے جیسا کہ وہ فرماتا ہے: لَهُمُ البُشرى في الحيوةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ لا تَبْدِيلَ لِكَلِمَتِ اللهِ ذلك هُوَ الْفَوْزُ الْعَظيم (یونس: ۶۵) یعنی ایماندار لوگ دنیوی زندگی اور آخرت میں بھی تبشیر کے نشان پاتے رہیں گے۔جن کے ذریعے سے وہ دنیا اور آخرت میں معرفت اور محبت کے میدانوں میں نا پیدا کنار ترقیاں کرتے جائیں گے۔یہ خدا کی باتیں ہیں جو بھی نہیں ملیں گی اور تبشیر کے نشانوں کو پالیتا یہی فوز عظیم ہے (یعنی یہی ایک امر ہے جو محبت اور معرفت کے منعمی مقام تک پہنچا دیتا ہے )۔