آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 14 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 14

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 14 ایک سولی لٹکائی گئی اور اسے بتایا گیا یہ تمہارے لئے ہے۔ان تکلیفوں کے درمیان اس سے پوچھا گیا کیا تم چاہتے ہو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس کے سبب تمہیں یہ تکلیفیں پہنچ رہی ہیں یہاں ہوتا اور ان تکلیفوں میں مبتلا ہوتا اور تم گھر میں آرام کرتے ؟ یہ بات سن کر وہ نہایت اطمینان اور سکون سے مسکراتا ہوا کہتا اے تم تو کہتے ہو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہاں ہوں اور یہ کہ کیا میں پسند کر سکتا ہوں کہ تکالیف ان کو پہنچ رہی ہوں اور میں اپنے گھر آرام سے بیٹھا ہوا ہوں۔لیکن مجھے تو یہ بھی پسند نہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں میں کانٹا جیسے اور میں گھر میں آرام سے بیٹھا ر ہوں۔(اسد الغابہ جلد ۲ صفحه ۲۲۹ مطبوعہ بیروت ) غرض ہمارے جسم کا ہر ذرہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہونے کا متمنی ہے۔ہماری جان بھی اس کے لئے ہے ، ہمارا مال بھی اسی کے واسطے ہے ہم اس پر راضی ہیں۔بخدا راضی ہیں پھر کہتا ہوں بخدا راضی ہیں کہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہمارے بچے بھی قتل کر دو، ہمارے دیکھتے دیکھتے ہمارے اہل وعیال کو جان سے ماردو لیکن محمد رسول اللہ ﷺ کو گالیاں نہ دو ہمارے مال لوٹ لو ہمیں اس ملک سے نکال دو لیکن ہمارے سردار حضرت نبی کریم کی بنک اور توہین نہ کرو۔انہیں گالیاں نہ دو ساگر یہ سمجھتے ہو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دینے سے تم جیت سکتے ہو اور مجھتے ہو کہ گالیاں دینے سے تم رک نہیں سکتے تو پھر یہ یا درکھو کہ کم از کم ہم تمہارا اپنے آخری سانس تک مقابلہ کریں گے۔جب تک ہمارا ایک آدمی بھی زندہ ہے وہ اس جنگ کو ختم نہیں کرے گا۔(انوارالعلوم جلد ۹ صفحه ۷ ۴۷۸،۴۷)