آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 13
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 13 والے ہیں۔بیشک وہ قانون کی پناہ میں جو کچھ چاہیں کر لیں اور پنجاب ہائیکورٹ کے تازہ فیصلہ کی آڑ میں جس قدر چا ہیں ہمارے رسول کریم مے کو گالیاں دے لیں۔لیکن وہ یاد رکھیں کہ گورنمنٹ کے قانون سے بالا ایک اور قانون بھی ہے اور وہ خدا کا بنایا ہوا قانون فطرت ہے۔وہ اپنی طاقت کی بنا پر گورنمنٹ کے قانون کی زد سے بچ سکتے ہیں لیکن قانون قدرت کی زد سے نہیں بچ سکتے اور قانون قدرت کا یہ اٹل اصل پورا ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ جس کی ذات سے ہمیں محبت ہوئی ہے اسے برا بھلا کہنے کے بعد کوئی شخص ہم سے محبت اور صلح کی توقع نہیں رکھ سکتا“۔(انوار العلوم جلد ۹ صفحی ۲ ۵۵۳٬۵۵) ۲ مارچ ۱۹۲۷ء کو بریڈ لاء ہال لاہور میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے آپ نے مخالفین اسلام کو مخاطب کرتے ہوئے عشق رسول کا اظہاران پر شوکت الفاظ میں فرمایا : دو ہمیں سزا دے لو، ہمارے ساتھ سختی کر لو ہمیں گالیاں چھوڑ گولیاں مارلو لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں نہ دو، اس کو برا نہ کہو، اس کی شان میں گستاخی نہ کرو۔ہم سب کچھ برداشت کر سکتے ہیں لیکن نہیں اگر برداشت کر سکتے تو اس مقدس ہستی کی تو ہین نہیں برداشت کر سکتے۔اس پاک وجود کے متعلق گالیاں نہیں میر داشت کر سکتے۔ہاں وہ جس نے دنیا میں امن قائم کیا امن کی تعلیم دی وحشی انسانوں کو انسان بنا دیا اور دنیا کو اندھیرے سے نکال کر روشنی میں کھڑا کر گیا اس کے متعلق یہ نہ کہو کہ وہ ظالم اورمفسد تھا اور یہ فعل اس کی تعلیم کا نتیجہ ہے۔یا درکھو ہم وہ لوگ ہیں جن کے ایک آدمی کو مخالفین پکڑ کر لے گئے اس کو سخت ایذائی پہنچا میں تکلیفیں دیں یہاں تک کہ اس کے جسم میں سوئیاں چھوٹی گئیں اس کے سامنے