آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 282
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 282 باب ششم وَإِنْ مِنْ قَرْيَةٍ إِلَّا تَحْنُ مُهْلِكُوهَا قَبْلَ يَوْمِ القِيمة أو مُعَذِّبُوهَا عَذَابٌ شَدِيداً كَانَ ذَلِكَ فِي الْكِتُبِ مَسْطُورًا - وَمَا مَتَحَنَا أَنْ تُرْسِلَ بالأيت إلا أن كَذَّبَ بِهَا الْآوَنُونَ وَاتَيْنا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةٌ فَظَلَمُوا بِهَا وَمَا نُرْسِلُ بِالْايَتِ الا تخويف (بنی اسرائیل: ۲۰۰۵۹) فرماتا ہے عز وجل کہ یوں تو قیامت سے پہلے ہر ایک بستی کو ہم نے ہی ہلاک کرنا ہے یا عذاب شدید نازل کرتا ہے یہی کتاب میں مندرج ہو چکا ہے۔مگر اس وقت ہم بعض ان گذشتہ قبری نشانوں کو (جو عذاب کی صورت میں پہلی امتوں پر نازل ہو چکے ہیں ) اس لئے نہیں بھیجتے جو پہلی اُمت کے لوگ اس کی تکذیب کر چکے ہیں۔چنانچہ ہم نے شمود کو بطو رانشان کے جو مقدمہ عذاب کا تھانا وہ دیا جو حق نمانشان تھا۔(جس پر انہوں نے ظلم کیا۔یعنی وہی ناقہ جس کی بسیار خوری اور بسیار نوشی کی وجہ سے شہر حجر کے باشندوں کے لئے جو قوم ثمود میں سے تھے۔پانی تالاب وغیرہ کا پینے کے لئے باقی رہا تھا اور نہ اُن کے مویشی کیلئے کوئی چہ اگاہ رہی تھی اور ایک سخت تکلیف اور رنج اور بلا میں گرفتار ہو گئی تھی اور قبری نشانوں کے نازل کرنے سے ہماری غرض یہی ہوتی ہے کہ لوگ اُن سے ڈریں یعنی قہری نشان تو صرف تخویف کیلئے دکھلائے جاتے ہیں پس ایسے قبری نشانوں کے طلب کرنے سے کیا فائدہ جو پہلی امتوں نے دیکھ کر انہیں جھٹلا دیا اور اُن کے دیکھنے سے کچھ بھی خائف و ہراساں نہ ہوئے۔اس جگہ واضح ہو کہ نشان دو قسم کے ہوتے ہیں۔(۱) نشان تخویف و تعذیب جن کو تیری نشان بھی کہہ سکتے ہیں۔(۲) نشان تبشیر و تسکین جن کو نشان رحمت سے بھی موسوم کر سکتے ہیں۔تخویف کے نشان سخت کافروں اور کنج دلوں اور نافرمانوں اور بے ایمانوں اور فرعونی طبیعت والوں کیلئے ظاہر کئے جاتے ہیں تا وہ ڈریں اور خدائے تعالیٰ کی قبری اور جلالی ہیت ان کے دلوں پر طاری ہو۔اور تبشیر کے نشان اُن حق کے طالبوں اور تقلص مومنوں اور سچائی کے متلاشیوں کیلئے ظہور پذیر ہوتے ہیں جو دل کی غربت اور فروتنی سے کامل یقین اور زیادت ایمان کے طلبگار ہیں