آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 281 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 281

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 281 باب ششم بلکہ خاص نشانات کے بارے میں اور ظاہر ہے کہ دشمن کا انکار بکلی قابل اطمینان نہیں ہوتا کیونکہ دشمن خلاف واقعہ بھی کہہ جاتا ہے مگر حضرت مسیح تو آپ اپنے منہ سے معجزات کے دکھلانے سے انکار کر رہے ہیں اور نفی صدور معجزات کو زمانہ کے ساتھ متعلق کر دیا ہے اور فرماتے ہیں کہ اس زمانے کے لوگوں کو کوئی نشان دیا نہ جائے گا پس اس سے بڑھ کر انکار معجزات کے بارے میں اور کون سابیان واضح ہو سکتا ہے اور اس لا نافیہ سے بڑھ کر پھرا ور کونسا لا نافیہ ہوگا۔پھر دوسری آیت کا ترجمہ پیش کیا گیا ہے۔اس میں بھی سیاق سباق کی آیتوں سے بالکل الگ کر کے اس پر اعتراض وارد کر دیا ہے مگر اصل آیت اور اس کے متعلقات پر نظر ڈالنے سے ہر ایک منصف بصیر سمجھ سکتا ہے کہ آیت میں ایک بھی ایسا لفظ نہیں ہے کہ جوا نکار مجزات پر دلالت کرتا ہو بلکہ تمام الفاظ صاف بتلا رہے ہیں کہ ضرور منجزات ظہور میں آئے۔چنانچہ وہ آیت معد اس کے دیگر آیات متعلقہ کے یہ ہے۔بقیه حاشیه: بینه ورسولا نہ ہیئت پر صاف اور کھلی کھلی دلیل ہے۔خدا جانے ان دل کے اندھوں کو ہمارے مولی و آقا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے انوار صداقت نے کس درجہ تک عاجز وٹنگ کر رکھا تھا اور کیا کچھ آسمانی تائیدات و برکات کی بارشیں ہو رہی تھیں کہ جن سے خیرہ ہو کر اور جن کی ہیئت سے منہ پھیر کر سراسر ٹالنے اور بھاگنے کی غرض سے ایسی دور از صواب درخواستیں پیش کرتے تھے۔ظاہر ہے کہ اس قسم کے معجزات کا دکھلانا ایمان بالغیب کی حد سے باہر ہے۔یوں تو اللہ جلشانہ قادر ہے کہ زمین سے آسمان تک زینہ رکھ دیوے۔جس کو سب لوگ دیکھ لیویں اور دو چار ہزار کیا دو چار کروڑ آدمیوں کو زندہ کر کے ان کے منہ سے اُن کی اولاد کے سامنے صدق نبوت کی گواہی دلا دیوے۔یہ سب کچھ وہ کر سکتا ہے مگر ذرا سوچ کر دیکھو کہ اس انکشاف نام سے ایمان بالغیب جو مدا رثواب اور اجر ہے دور ہو جاتا ہے اور دنیا نمونہ محشر ہو جاتی ہے۔پس جس طرح قیامت کے میدان میں جو انکشاف نام کا وقت ہوگا ایمان کام نہیں آتا۔اسی طرح اس انکشاف نام سے بھی ایمان لانا کچھ مفید نہیں بلکہ ایمان اسی حد تک ایمان کہلاتا ہے کہ جب کچھ اخفا بھی باقی رہے جب سارے پر دے کھل گئے تو پھر ایمان ایمان نہیں رہتا اسی وجہ سے سارے نبی ایمان بالغیب کی رعایت سے معجزے دکھلاتے رہے ہیں کبھی کسی نبی نے ایسا نہیں کیا کہ ایک شہر کا شہر زندہ کر کے ان سے اپنی نبوت کی گواہی دلا وے یا آسمان تک نردبان رکھ کر اور سب کے روبہ وچڑھ کر تمام دنیا کو تماشا دکھلاوے۔