آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 278
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 278 باب ششم زندگی بخش نشان موجود ہے یعنی قرآن جو تم پر وارد ہو کر تمہیں ہلاک کرنا نہیں چاہتا بلکہ ہمیشہ کی حیات بخشتا ہے مگر جب عذاب کا نشان تم پر وارد ہوا تو وہ تمہیں بلاک کرے گا۔پس کیوں تم ناحق اپنا مرنا ہی چاہتے ہو اور اگر تم عذاب ہی مانگتے ہو تو یا درکھو کہ وہ بھی جلد آئے گا۔پس اللہ جل شاہد نے ان آیات میں عذاب کے نشان کا وعدہ دیا ہے اور قرآن شریف میں جو رحمت کے نشان ہیں اور دلوں پر وارد ہو کر اپنا خارق عادت اثر ان پر ظاہر کرتے ہیں ان کی طرف توجہ دلائی۔پر معترض کا یہ گمان کہ اس آیت میں لا نافیہ جنس معجزات کی نفی پر دلالت کرتا ہے۔جس سے کل معجزات کی نفی لازم آتی ہے۔محض صرف و نحو سے نا واقفیت کی وجہ سے ہے۔یا درکھنا چاہئے کہ نبی کا اثر اُسی حد تک محدود ہوتا ہے جو منتظم کے ارادہ میں متعین ہوتی ہے۔خواہ وہ ارادہ تصریحاً بیان کیا گیا ہو یا اشارۃ۔مثلاً کوئی کہے کہ اب سردی کا نام ونشان باقی نہیں رہا ، تو ظاہر ہے کہ اس نے اپنے بلدہ کی حالت موجودہ کے موافق کہا ہے اور کو اس نے بظاہر اپنے شہر کا نام بھی نہیں لیا مگر اس کے کلام سے یہ سمجھنا کہ اس کا یہ دعویٰ ہے کہ کل کو ہستانی ملکوں سے بھی سردی جاتی رہی اور سب جگہ سخت اور تیز دھوپ پڑنے لگی اور اس کی دلیل یہ پیش کرنا کہ جس لا کو اس نے استعمال کیا ہے وہ نفی جنس کا لا ہے۔جس کا تمام جہان پر اثر پڑنا چاہئے ، درست نہیں۔مکہ کے مغلوب بت پرست جنہوں نے آخر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اور آنجناب کے معجزات کو معجزہ کر کے مان لیا اور جو کفر کے زمانہ میں بھی صرف خشک منکر نہیں تھے بلکہ روم اور ایران میں بھی جا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو متعجبانہ خیال سے ساحر مشہور کرتے تھے اور کو بے جا پیرایوں میں ہی سہی، مگر نشانوں کا اقرار کر لیا کرتے تھے۔جن کے اقرار قرآن شریف میں موجود ہیں۔وہ اپنے ضعیف اور کمزور کلام میں جوانوار ساطعہ نبوت محمدیہ کے نیچے دبے ہوئے تھے کیوں لا نافیہ استعمال کرنے لگے۔اگر ان کو ایسا ہی لمبا چوڑا انکار ہوتا تو وہ بالآخر نہایت درجہ کے یقین سے جو انہوں نے اپنے خونوں کے بہانے اور اپنی جانوں کے فدا کرنے سے ثابت کر دیا تھا مشرف بالاسلام کیوں ہو جاتے؟ اور کفر کے ایام میں جواُن کے بار با کلمات قرآن شریف میں درج ہیں وہ سہی ہیں کہ وہ اپنی کو نہ بینی کے دھوکہ سے آنحضرت صلی