آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 277 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 277

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 277 باب ششم اور ما در زا داند ھے جو بے شمار پشتوں سے اندھے ہی چلے آتے تھے۔آنکھیں کھول رہے ہیں اور کفر اور الحاد کی طرح طرح کی بیماریاں اس سے اچھی ہوتی چلی جاتی ہیں اور تعصب کے سخت جذامی اس سے صاف ہوتے جاتے ہیں۔اس سے نور ملتا ہے اور ظلمت دُور ہوتی ہے اور وصل الہی میسر آتا ہے اور اس کی علامات پیدا ہوتی ہیں۔سو تم کیوں اس رحمت کے نشان کو چھوڑ کر جو ہمیشہ کی زندگی بخشتا ہے عذاب اور موت کا نشان مانگتے ہو؟ پھر بعد اس کے فرمایا کہ یہ قوم تو جلدی سے عذاب ہی مانگتی ہے۔رحمت کے نشانوں سے فائدہ اُٹھانا نہیں چاہتی۔اُن کو کہہ دے کہ اگر یہ بات نہ ہوتی کہ عذاب کی نشانیاں وابستہ باوقات ہوتی ہیں تو یہ عذابی نشانیاں بھی کب کی نازل ہوگئی ہو تیں اور عذاب ضرور آئے گا اور ایسے وقت میں آئے گا کہ ان کو خبر بھی نہیں ہوگی۔اب انصاف سے دیکھو! کہ اس آیت میں کہاں معجزات کا انکار پایا جاتا ہے یہ آیتیں تو بآواز بلند پکار رہی ہیں کہ کفار نے ہلاکت اور عذاب کا نشان مانگا تھا۔سو اول انہیں کہا گیا کہ دیکھو تم میں قُل لينِ اجْتَمَعَتِ الإِنسُ وَالْجِنُّ عَلَى أَن يَأْتُوا بِمِثْلِ هَذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِشَاء وَلَوْ كَانَ بَعْتُهُمْ لِبَعْضٍ ظهيرا (بنی اسرائیل : ۸۹ ) یعنی قرآن کے ذریعہ سے سلامتی کی را ہوں کی ہدایت ملتی ہے اور لوگ ظلمت سے نور کی طرف نکالے جاتے ہیں وہ ہر ایک اندرونی بیماری کو اچھا کرتا ہے۔خدا نے ایک ایسا پانی اُتارا ہے جس سے مردہ زمین زندہ ہو رہی ہے ایسا پانی اتارا جس سے ہرا ایک وادی میں بقدراپنی وسعت کے بہہ نکلا ہے۔ایسا پانی اتارا جس سے گلی سڑی ہوئی زمین سرسبز ہوگئی۔اس سے خدا خوف بندوں کی جلدیں کانپتی ہیں۔پھر ان کی جلدیں اور ان کے دل ذکر الہی کیلئے نرم ہو جاتے ہیں۔یاد رکھو کہ قرآن سے دل اطمینان پکڑتے ہیں جو لوگ قرآن کے تابع ہو جائیں اُن کے دلوں میں ایمان لکھا جاتا ہے اور روح القدس انہیں ملتا ہے۔روح القدس نے ہی قرآن کو انا را تا قرآن ایمانداروں کے دلوں کو مضبوط کرے اور مسلمین کیلئے ہدایت اور بشارت کا نشان ہو ہم نے ہی قرآن کو انا را ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں، یعنی کیا صورت کے لحاظ سے اور کیا خاصیت کے لحاظ سے ہمیشہ قرآن اپنی حالت اصلی پر رہے گا اور الہی حفاظت کا اس پر سایہ ہوگا۔پھر فرمایا کہ قرآن میں تمام معارف و حقائق و صداقتیں ہیں جو تھانی کتابوں میں پائی جاتی ہیں اور اس کی مثل بنانے پر کوئی انسان و جین قادر نہیں اگر چہ اس کام کیلئے یا ہم مد و معاون ہو جائیں۔