آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 279 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 279

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 279 باب ششم اللہ علیہ وسلم کا نام ساحر رکھتے تھے۔جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے: وإن يروا ايةً تُعرِضُو وَيَقُولُوا سِحْر مستمر (القمر: ۳) یعنی جب کوئی نشان دیکھتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ پکا جادو ہے۔پھر دوسری جگہ فرماتا ہے (0:0) وعجبوا أن جَاءَهُمْ مُنْذِرُ مِنْهُمْ وَقَالَ الكَفِرُونَ هذا مجر كَذَابُ (ص: ٥) یعنی انہوں نے اس بات سے تعجب کیا کہ انہیں میں سے ایک شخص اُن کی طرف بھیجا گیا اور بے ایمانوں نے کہا کہ یہ تو جادو گر کذاب ہے۔اب ظاہر ہے کہ جبکہ وہ نشانوں کو دیکھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جادو گر کہتے تھے اور پھر اس کے بعد انہیں نشانوں کو معجزہ کر کے مان بھی لیا اور جزیرہ کا جزیرہ مسلمان ہو کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاک معجزات کا ہمیشہ کیلئے سچے دل سے گواہ بن گیا تو پھر ایسے لوگوں سے کیونکر ممکن ہے کہ وہ عام طور پر نشانوں سے صاف منکر ہو جاتے اور انکار معجزات میں ایسا لا نافیہ استعمال کرتے جو اُن کی حد حوصلہ سے باہر اور ان کی مستمر رائے سے بعید تھا بلکہ قرائن سے آفتاب کی طرح ظاہر ہے کہ جس جس جگہ پر قرآن شریف میں کلار کی طرف سے یہ اعتراض لکھا گیا ہے کہ کیوں اس پیغمبر پر کوئی نشانی نہیں اتری؟ ساتھ ی یہ بھی جلا کا یہ ہے کہ جو نتانیا ہی یہ بھی بتلا دیا گیا ہے کہ اُن کا مطلب یہ ہے کہ جو نشانیاں ہم مانگتے ہیں۔اُن میں سے کوئی نشانی کیوں نہیں اترتی۔حمد حاشیہ واضح ہو کہ قرآن شریف میں نشان مانگنے کے سوالات کفار کی طرف سے صرف ایک دو جگہ نہیں بلکہ کئی مقامات میں یہی سوال کیا گیا ہے اور ان سب مقامات کو بنظر یکجائی دیکھنے سے ثابت ہوتا ہے کہ کفار مکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تین قسم کے نشانات مانگا کرتے تھے۔(۱) وہ نشان جو عذاب کی صورت میں فقط اپنے اقتراح سے کفار مکہ نے طلب کئے تھے۔(۲) دوسرے وہ نشان جو عذاب کی صورت میں یا متقدمہ عذاب کی صورت میں پہلی امتوں پر وارد کئے گئے تھے۔(۳) تیسرے وہ نشان جس سے پر وہ غیبی بکلی اُٹھ جائے ، جس کا اُٹھ جانا ایمان بالغیب کے بنگی یہ خلاف ہے۔سو عذاب کے نشان ظاہر ہونے کے لئے جو سوال کئے گئے ہیں ان کا جواب تو قرآن شریف میں یہی دیا