آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 276 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 276

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 276 باب ششم در حقیقت وہی مطلب نکلتا ہے جو کفار عذاب کے نشانوں سے پورا کرنا چاہتے ہیں کیونکہ کفار مکہ اس غرض سے عذاب کا نشان مانگتے تھے کہ تا وہ ان پر وارد ہو کر انہیں حق الیقینی تک پہنچا دے۔صرف دیکھنے کی چیز نہ رہے کیونکہ مجھر درویت کے نشانوں میں ان کو دھو کے کا احتمال تھا اور چشم بندی وغیرہ کا خیال سو اسو ہم اور اضطراب کے دور کرنے کے لئے فرمایا کہ ایسا ہی نشان چاہتے ہو جو تمہارے وجودوں پر وارد ہو جائے تو پھر عذاب کے نشان کی کیا حاجت ہے؟ کیا اس مدعا کے حاصل کرنے کے لئے رحمت کا نشان کافی نہیں؟ یعنی قرآن شریف جو تمہاری آنکھوں کو اپنی پُر نور اور تیز شعاعوں سے خیرہ کر رہا ہے اور اپنی ذاتی خوبیاں اور اپنے حقائق اور معارف اور اپنے فوق العادت خواص اس قدر دکھلا رہا ہے جس کے مقابلہ ومعارضہ سے تم عاجز رہ گئے ہو * اور تم پر اور تمہاری قوم پر ایک خارق عادت اثر ڈال رہا ہے اور دلوں پر وارد ہو کر عجیب در عجیب تبدیلیاں دکھلا رہا ہے۔مدت ہائے دراز کے مردے اس سے زندہ ہوتے چلے جاتے ہیں یہ تمام خارق عادت خاصیتیں قرآن شریف کی، جن کی رو سے وہ معجزہ کہلاتا ہے ان مفصلہ ذیل سورتوں میں یہ تفصیل ذیل کہتے ہیں۔سورة البقرة - سورة ال عمران سورة النساء سورة المائده، سورة الانعام سورة الاعراف سورة الانفال سورة التوبة سورة يونس سورة هود سورة الرعد سورة ابراهيم سورة الحجر سورة الواقعه سورة النمل سورة الحج سورة البينه سورة المجادلة چنانچه بطور نمونه چند آیات یہ ہیں فرماتا ہے عز وجل۔بِهِ الله مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَه سُبُلَ السَّلْمِ وَيُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُمَتِ إِلَى النور (المائدة (1) شما نمَا فِي الصُّدُورِ (ولى ٥٨) أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءٍ فَاحَيَابِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا (أهل ٢٢) أَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَسَانَتْ أَوْدِيَةٌ بِقَدَرِهَا انْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَصْحُ الْأَرْضُ مُخْضَرَّةٌ (١٣) تَقْشَعِرُمَة جَلَوْدُ الَّذِينَ يَخشون ربهم لا تلين جلودهم وتنويه الى ذكر الله (الزمر:۳۳) پیکر الله تطمين القُلُوبُ ( العروس) أُولَك كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيْمَاتُ وَايْدَهُمْ بِزَوْجٍ مِنْهُ (الجاوا (۳۳) نزله روح القدس من ربك بالحق بين الَّذِينَ آمَنُوا وَهُدًى وَ أَحْرَى لِلْمُسْلِينَ (الحل: ١٠٣) إِذَا نَحْنُ نَزَّلْتَ الذِّكْرُ وَ إِنَّا لَهُ تَحْفِقُونَ (الحجر:١٠) فِيْهَا كُتُبُ قَيْمَةٌ (ارد :)