آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 275 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 275

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 275 باب ششم معجزہ نہ ملنے کے اعتراضات ایک عیسائی عبداللہ جیمز نے یہ اعتراض پیش کیا کہ آپ کو کوئی معجزہ نہیں ملا اس نے یہ استدلال سورۃ عنکبوت سے اور سورۃ بنی اسرائیل سے کیا اور کہا کہ اگر معجزہ ملتا تو نبوت اور قرآن پر تشکی نہ ہوتے۔اس کا جواب دیتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : پوشیدہ نہ رہے کہ ان دونوں آیتوں سے معترض کا مدعا جو استدلال بر نفی معجزات ہے، ہرگز ثابت نہیں ہوتا بلکہ بر خلاف اس کے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ضرور ایسے منجزات ظہور پذیر ہوتے رہے ہیں کہ جو ایک صادق و کامل نبی سے ہونے چاہئیں۔چنانچہ تصریح اس کی نیچے کے بیانات سے بخوبی ہو جائے گی۔پہلی آیت جس کا ترجمہ معترض نے اپنے دعوی کی تائید کیلئے عبارات متعلقہ سے کاٹ کر پیش کر دیا ہے مع اس ساتھ کی دوسری آیتوں کے جن سے مطلب کھلاتا ہے ، یہ ہے۔وقالوا لولا أنزلَ عَلَيْهِ التُ من رَّبِّة قُلْ إِنَّمَا الْانتَ عِنْدَ اللهِ وَإِنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ آتَانَد مُّبِينٌ اَوَلَمْ يَكْفِهِمْ أَنَا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتب يُتْلَى عَلَيْهِمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَرَحْمَةً - لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ - (الكبوت: ۵۲٬۵۱) وَيَتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَلَوْلَا أَجَلُ ى لجَنّ هُمُ الْعَذَابُ وَلَيَأْتِيَنَّهُمْ بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ (الكبوت (۵۴) یعنی کہتے ہیں کیوں نہ اتریں اس پر نشانیاں کہ وہ نشانیاں (جو تم مانگتے ہو یعنی عذاب کی نشانیاں ) وہ تو خدائے تعالیٰ کے پاس اور خاص اس کے اختیار میں ہیں اور میں تو صرف ڈرانے والا ہوں۔یعنی میرا کام فقط یہ ہے کہ عذاب کے دن سے ڈراؤں نہ یہ کہ اپنی طرف سے عذاب نازل کروں اور پھر فرمایا کہ کیا ان لوگوں کیلئے (جو اپنے پر کوئی عذاب کی نشانی وارد کرانی چاہتے ہیں یہ رحمت کی نشانی کافی نہیں جو ہم نے تجھ پر (اے رسول اٹھی ) وہ کتاب (جو جامع کمالات ہے ) نازل کی جو اُن پر پڑھی جاتی ہے یعنی قرآن شریف جو ایک رحمت کا نشان ہے۔جس سے