آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 12 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 12

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 12 آئیں گی۔عشق رسول میں ڈوبی ہوئی یہ تحریر نمونہ کے طور پر پیش ہے۔جب امرتسر کے ہند ورسالہ ”ورتمان" نے مئی ۱۹۲۷ء کی اشاعت میں ایک دل آزار مضمون شائع کیا تو حضرت مصلح موعود نے اس اشتعال انگیز مضمون کو دیکھتے ہی ایک پوسٹر شائع فرمایا جس کا عنوان تھا۔رسول کریم کی محبت کا دعوی کرنے والے کیا اب بھی پیدا نہ ہوں گے" اس میں آپ تحریر فرماتے ہیں: کیا ہمارے ہمسائیوں کو یہ معلوم نہیں کہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فذته نَفْسِی و اهلی کواپنی ساری جان اور سارے دل سے پیار کرتے ہیں اور ہمارے جسم کا ذرہ ذرہ ان پاکبازوں کے سردار کی جوتیوں کی خاک پر بھی خدا ہے۔اگر وہ اس امر سے واقف ہیں تو پھر اس قسم کی تحریرات سے سوائے اس کے اور کیا غرض ہو سکتی ہے کہ ہمارے دلوں کو زخمی کیا جائے اور ہمارے سینوں کو چھیدا جائے اور ہماری ذلت اور بے بسی کو نہایت بھیا تک صورت میں ہماری آنکھوں کے سامنے لایا جائے اور ہم پر ظاہر کیا جائے کہ مسلمانوں کے احساسات کی ان لوگوں کو اس قدر بھی پرواہ نہیں جس قدر کہ ایک امیر کبیر کو ایک ٹوٹی ہوئی جوتی کی ہوتی ہے۔لیکن میں پوچھتا ہوں کہ کیا مسلمانوں کو ستانے کے لئے ان لوگوں کو کوئی اور راستہ نہیں ملتا۔ہماری جانیں حاضر ہیں۔ہماری اولادوں کی جانیں حاضر ہیں، جس قدر چاہیں ہمیں دکھ دے لیں لیکن خدا را نبیوں کے سردار محمد مصطفی امیہ کو گالیاں دے کر آپ کی بیک کر کے اپنی دنیا اور آخرت تباہ نہ کریں کہ اس ذات بابرکات سے ہمیں اس قدر تعلق اور وابستگی ہے کہ اس پر حملہ کرنے والوں سے ہم کبھی صلح نہیں کر سکتے۔ہماری طرف سے بار بار کہا گیا ہے اور میں پھر دوبارہ ان لوگوں کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ ہماری جنگل کے درندوں اور بن کے سانپوں سے صلح ہو سکتی ہے۔لیکن ان لوگوں سے ہر گز نہیں ہو سکتی۔جو رسول کریم ﷺ کو گالیاں دینے