آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 270 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 270

نفرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 270 باب پنجم تو آپ حیران رہ جائیں گے اور یہ احمدیوں کے خون مباح کرنے والے گورنر صاحب کا حال ہے، اس حدیث کو قبول کر کے اپنی کتاب میں جگہ دینے کے نتیجے میں اگر پاکستان کے قانون میں کسی کی جان حلال ہوتی ہے تو ان گورنر صاحب کی ہے، پہلے ان کو پھانسی چڑھانا چاہئے۔اب سن لیجئے حدیث یہ بیان کرتے ہیں۔عنوان یہ لگایا " حضرت علی کا حضرت ماریہ کے چچازاد بھائی کے قتل کے لئے بھیجا جانا۔حضرت ماریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آنحضرت لے کے حرم میں تھیں جن کے بطن سے حضرت ابراہیم پیدا ہوئے یہ وہ مقدس عورت ہے جس کے پیٹ سے ایک ایسا وجود پیدا ہوتا ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا رسول گواہی دیتا ہے کہ : لو عاش ابراهيم لكان صديقاً نبياً (سنن ابن ماجہ کتاب الجنائز حدیث نمبر :۱۵۰۰) خدا کی قسم ہے کہ اگر یہ بچہ زندہ رہتا جو ماریہ کے پیٹ سے مجھے عطا ہوا ہے تو ضرور صدیق نبی بنتا۔ان بد بختوں کا یہ حال ہے ان کے متعلق یہ لکھا ہے کہ حضرت رسول کریم ﷺ کو یہ اطلاع پہنچی کہ اس ماریہ کے پاس ان کا ایک چچا زاد بھائی آتا جاتا ہے اور لوگ ان پر الزام لگا رہے ہیں۔آنحضرت ﷺ نے قرآنی تعلیم کے بالکل بر خلاف یکطرفہ بات سن کر، نہ ماریہ کو سوال جواب کا موقع دیا نہ تحقیق فرمائی ، حضرت علی کو مامور کیا کہ جاؤ اور اس کو قتل کر دو ، اس کے سوا اور کوئی سزا نہیں ہے اس کی اور اگلا واقعہ نہیں۔یعنی یہ وہ حدیثیں ہیں جن کے بطن سے ہزا ر سلمان رشدی پیدا ہو سکتے ہیں اور ایسی ہی وہ حدیثیں ہیں جن سے سلمان رشدی پیدا ہوتے ہیں لکھا ہے کہ حضرت علی نے اس شخص کو ایسے حال میں جالیا کہ جب وہ نہا رہا تھا کنویں میں، اس کونگ تلوار کر کے کھینچ کر جو باہر نکا لاقتل کرنے کے لئے تو پتا لگا وہ تو زنتا ہے نا مرد ہے، خدا نے اس کو وہ اعضاء ہی نہیں دیئے جن کے ساتھ انسان کسی عورت سے مباشرت کر سکے۔اسی وقت تلوار نیام میں ڈالی اور رسول اللہ اللہ سے جا کے عرض کیا کہ میں مار نہیں سکا، مجبوری ہے۔ان الله ، یعنی ہنسنے کی بات ہے لیکن میرا تو خون کھول اٹھا جب میں نے یہ پڑھا۔انا للہ ایسا خبیثانہ، ایسا نا پاک حملہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی ذات پر کیا گیا ہے کہ ایک نہیں، میں نے صحیح کہا کی ہے ہزار مسلمان رشدی اس روایت کے بطن سے پیدا ہو سکتے ہیں۔