آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 269 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 269

نحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 269 باب هجم مبارک کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ کان عبدالرزاق کذاب يسرق الحديث وصرف کذاب ہی نہیں تھا بلکہ دوسروں کی حدیثیں بھی چوری کیا کرتا تھا اور اپنی طرف سے منسوب کر دیا کرتا تھا۔انہوں نے ایک باب میں پانچ حدیثیں پیش کی ہیں، جس کو آج کل کے زمانے کے علما ء اور گورنر ہتک کرنے والے سے قتل کے حق میں فتوؤں کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔جن کا منبع جھوٹ ہوان کے فتوے کا کیا حال ہو گا ؟ یہ مثالیں سن لیجئے ان کی ، وہی بات ہر جگہ یہی مصنف عبدالرزاق صاحب ہیں جو حدیثیں گھڑ گھڑ کے پیش کئے چلے جارہے ہیں کہ ایک موقع پر رسول اللہ ﷺ کوکسی نے گالی دی۔آپ نے فرمایا کون ہے جو مجھے میرے دشمن سے بچائے ؟ یہ فقرہ تو ٹکسالی کا ہر جگہ چلایا جارہا ہے اور ایک شخص کھڑا ہوتا ہے اور وہ کون تھا حضرت زبیر انہوں نے اس کو قتل کر دیا، یہ حوالہ دیا جا رہا ہے اور اصل بات کیا ہے وہ یہ ہے کہ جنگ کے موقع پر جب کہ مبارز ہو رہا تھا ، یعنی جب پرانے زمانے میں جنگ ہوا کرتی تھی تو ایک ایک دشمن کا ہیر و یا بہا در پہلوان نکلا کرتا تھا اور اس کے مقابل پر وہ آواز دیتا تھا تو ایک دوسرا نکلتا تھا۔تو اس وقت ایک دشمن اسلام نے جنگ کے دوران نکل کر للکارا ہے۔آنحضرت میں نے اعلان فرمایا اور یہی آپ کا دستور تھا کہ اس دشمن سے نپٹنے کے لئے کون ہے جو نکلے گا؟ اس وقت حضرت زبیر نکلے اور اس کو قتل کر دیا۔اس کا ہتک رسول کے مضمون سے کیا تعلق ہے، دور کا بھی کوئی تعلق نہیں۔پس جو ایک حدیث سچی نکلی اس جھوٹے کی اس کا حال میں نے آپ کے سامنے کھول دیا ہے، باقی حدیثوں کی تو نہ کوئی سند نہ کوئی بنیا د کوئی لائق ہی اس بات کے نہیں ہے کہ ان پر غور کیا جائے۔کیونکہ مصنف جھوٹا اور اول درجے کا جھوٹا ، ایسا جھوٹا کہ واقدمی بھی اس کے چہرے کے سامنے سچا دکھائی دے۔اب سنیئے ایک ایسی حدیث درج کرتے ہیں نعوذباللہ من ذالک کہ وہ حدیث اس لائق ہے یعنی مصنوعی حدیث کہ جس شخص کے منہ سے نکلے اسے اول درجے کا گستاخ رسول قرار دیا جائے، جس قلم سے نکلے اس قلم کے خلاف فتویٰ دینا جائز ہے کہ وہ نہایت ہی منحوس اور بد بخت قلم ہے، جس نے اس حدیث کو اختیا ر کر کے لکھنے کی جرات کی ہے۔اب آپ سنیں گے