آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 267 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 267

نحضرت پیر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 267 باب پنجم نہ کیا جائے۔وہ نا قابل اعتبار انسان ہے، ایک ایسا شخص جس پر حق علماء لکھ چکے ہیں کہ وہ نا قابل اعتماد ہے۔اس کی روایت پر تمام بنی نوع انسان کا امن اٹھا دیا جائے ، یہ کہاں سے عقل انہوں نے حاصل کی ہے۔اللہ ہی بہتر جانتا ہے کیونکہ خدا کی پیدا کردہ عقل کو مسخ کئے بغیر یہ نتیجے نہیں نکالے جاسکتے۔لسان المیز ان میں اور تہذیب التہذیب میں جو اسماء الرجال کی چوٹی کی کتابیں ہیں۔جن میں راویوں پر ابن حجر نے بہت ہی عمدہ تحقیق فرمائی ہے اور بہت عمدہ بحث فرمائی ہے وہ لکھتے ہیں کہ یہ جو حد بیٹ ہے وہم کا نتیجہ ہے، وہم کے سوا کچھ نہیں۔غلط غلطاً فاحشاً اس ظالم راوی نے فحش غلطی کی ہے غلط غلطاً کاجشا پر گورنر صاحب پنجاب فتوے جاری کر رہے ہیں۔اسی طرح ابن جریر نے ان کی بہت سی ، اکثر رواجوں کو یا بہت سی روایوں کو موضوع قرار دیا ہے کہ جان بوجھ کر جھوٹ گھڑا گیا ہے، ان میں کوئی اصل نہیں۔یہ ہیں وہ So called حدیثیں یعنی مبینہ حدیثیں جن پر ان ظالموں کے فتوؤں کی بنیادیں ہیں۔ایک حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد بیشمی المتوفی ۵۸۰۷، ۸۰۷ ہجری کے ایک مصنف کی ایک کتاب کا حوالہ دے کر جو رسول کریم ﷺ کے ۸۰۷ سال بعد مرا ہے۔اس پر بنا کرتے ہوئے یہ روایت ایک بیان کرتے ہیں یہاں حضرت علی والی روایت ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب سے منسوب روایت ہے کہ آنحضرت علی نے ایک شخص کو قتل کا حکم دیا ، جو رسول کریم ﷺ کی گستاخی کرنا تھا یا عورت تھی جو گستاخی کرتی تھی اس کے قتل کا حکم دیا۔اس حدیث کے متعلق یہ کہا جا سکتا ہے کہ حدیث طبرانی اور جامع الصغیر للسیوطی اور دوسری بعض کتب میں بھی یہ حدیث ملتی ہے لیکن اس کا راوی عبد اللہ ابن محمد الامری وہ کیسا انسان تھا۔اس کے متعلق علما حق لکھتے ہیں رماہ النسائی بالکذب امام نسائی نے اس کے قطعی طور پر جھوٹا ہونے کا فتوی دیا۔ایک ایسا راوی جس کے قطعی طور پر جھوٹا ہونے کا فتویٰ امام نسعی دے چکے ہیں، یہ معلوم ہونے کے باوجود اس کو فتوؤں میں داخل کیا جا رہا ہے اور اس کے نتیجے میں قرآنی تعلیم تبدیل کی جارہی ہے۔محمد ناصر الدین البانی اپنی کتاب سلسلۃ الاحادیث الضعیفہ والموضوعہ میں اس روایت کو