آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 266
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 266 باب هجم ہوئے تھے، اس زہر سے مارے گئے جو آپ کے لئے بنایا گیا تھا تو آنحضرت ﷺ نے قصاص کے طور پر پھر اس یہودیہ کو اس صحابی کے قتل کے جرم میں قتل کرنے کا حکم دیا (ابو داؤ د کتاب الدیات حدیث نمبر: ۲۹۰۹)۔اب بتائیے! اس میں بنک رسول کا کون سا موقع، کون سا محل ہے، اس کا کا سا کوئی دُور سے بھی اس مضمون سے تعلق نہیں ہے۔سنن بیہقی کی روایت ہے۔اب سنن بیہقی وہ کتاب ہے جس میں تمام حدیث کی کتابوں میں سب سے زیادہ غلط روایتیں اکٹھی کی گئی ہیں۔ایسی فرضی باتیں ہیں کہ ان کو پڑھتے پڑھتے انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی طرف یہ باتیں منسوب ہیں اور چھ سو سال کے بعد وہ محدث صاحب حدیثیں اکٹھی کر رہے ہیں۔وہ حدیثیں جن کا پہلی صدیوں میں نام ونشان بھی نہیں ہے اگر ڈھونڈنی ہوں تو بہیتی میں جا کے ڈھونڈ لیں چنانچہ انہوں نے بیہقی کو ایک مستند کتاب بنا کر اس سے ایک روایت پیش کی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت ابوعلی روز باری کی روایت ہے کہتے ہیں ابو علی الروز باری نے ہم سے روایت کی ہے اور آخری روایت یہ بنتی ہے کہ ایک یہودی عورت آنحضرت میں کو گالیاں دیا کرتی تھی ، آنحضرت سے متعلق بنتی بد کوئی کرتی تھی۔ایک شخص نے اس کا گلا گھونٹ دیا یہاں تک کہ وہ مرگئی تو رسول اللہ ﷺ نے اس کا خون باطل قرار دے دیا ( یعنی اس کا بدلہ نہ دلوایا )۔اس سے کیا استنباط ہوتا ہے اگر یہ حدیث درست ہو تو اس سے کیا استنباط ہوتا ہے؟ وہی جو میں بیان کر چکا ہوں کہ ہر مسلمان کو حق ہے کہ کسی کا گلا دبا دے، گھونٹ دے، ماردے، قتل کر دے اور بعد میں اگر وہ یہ کہہ دے کہ یہ رسول الله علے کو گالیاں دیتا تھا یا دیتی تھی تو اس کا خون حرام اور جس کو قتل کیا گیا اس کا حلال ہو گیا۔یہ اسلام ہے؟ نعوذ باللہ من ذالک جو دنیا میں پینے کے لائق اسلام ہے؟ انسانی فطرت اس تصور کو دھکے دیتی ہے ، قبول کر ہی نہیں سکتی۔لیکن اب میں بتاتا ہوں کہ اس حدیث کی اصل کیا ہے اس کی حیثیت علماء نے کیا بیان فرمائی ہے؟ اس روایت میں ابو علی الروز باری کا ذکر ہے جسے اسماء الرجال نے ضعیف قرار دیا ہے۔اسماعیل الصفاء لکھتے ہیں کہ ابوعلی الروز باری احمد بن عطالا يعتمد علیہ کبھی اس پر اعتماد صلى الله