آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 265 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 265

سرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 265 باب پنجم ایک وجہ یہ تھی تا کہ یہ لوگ پہچان لیں کہ کون ہیں؟ یہ نہ کہ سکیں کہ ہمیں پتا نہیں تھا کہ یہ مسلمان عورتیں ہیں اس لئے جیسا کہ ہمارا اپنا رواج ہے ہم نے اوباشی کا طریق اختیار کیا۔پس قرآن کریم نے آنحضرت ﷺ اور آنحضرت ﷺ کے صحابہ کی بنک کے کوئی ایسے واقعات پیش نہیں کئے جن کے نتیجے میں خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو جوابی حملے میں قتل عام کی اجازت دی ہو۔پس سنت رسول کو سنت رسول کے خلاف کیسے تم استعمال کر سکتے ہو، یہ ناممکن ہے کہ آنحضور کے کردار میں تضاد ہو، اگر تضاد ہو تو قرآن کی رُو سے آپ سچے نبی نہیں بنتے کیونکہ قرآن کریم فرماتا ہے کہ اگر اس نے جھوٹ گھڑا ہونا ، تو تم اس کی باتوں میں بہت سا اختلاف دیکھتے۔پس نہ آپ کے کلام میں کوئی اختلاف ہے نہ آپ کی سنت میں کوئی اختلاف ہے، نہ آپ کا قرآن کریم کی تعلیم سے کوئی اختلاف ہے اور ہر وہ تاریخی واقعہ جس سے یہ استنباط کیا الله جائے کہ گویا نعوذ بالله من ذالک آنحضور ﷺ ایسے ہی حالات میں ایک جگہ ایک اور حکم جاری فرما رہے تھے اور ایک دوسری جگہ ایک اور حکم جاری فرما رہے تھے بالکل غلط اور جھوٹا الزام ہے۔آنحضور ﷺ کا کردار وہی پاک یکساں کردار ہے جس کا ظاہر و باطن ایک تھا، ظاہر بھی نور تھا اور باطن بھی نور تھا۔آپ کے کردار میں آپ کو کہیں کوئی تضاد دکھائی نہیں دے گا۔ان کے علاوہ ایک واقعہ اُس یہودیہ کے قتل کا پیش کیا جاتا ہے جس نے آنحضرت ﷺ کو زہر دینے کی کوشش کی تھی بلکہ دیا تھا۔آنحضور ﷺ کو دستی کا گوشت پسند تھا بکرے کا بازو ہے اس کو دستی کہا جاتا ہے ) اس عورت نے اخلاص ظاہر کیا دھوکہ بازی کے طور پرا اور کہا کہ مجھے شوق ہے میں کچھ پکا کے بھیجوں اور دستی بھجوائی۔جس کے اندر نہایت ہی خوفناک زہر داخل کیا گیا آنحضور ﷺ نے تھوڑا سا چکھا اور چھوڑ دیا اور آپ کے ساتھ ایک صحابی تھے جنہوں نے جلدی میں کئی لقمے کھا لئے۔آنحضرت علی کو اسی وقت پتا چلا کہ یہ زہر والی دوستی ہے، آپ نے تحقیق کا حکم دیا۔تحقیق ہوئی اور ثابت ہوا کہ اس یہودیہ نے آپ کو زہر دیا تھا چنانچہ آنحضرت ﷺ نے اس کو معاف فرما دیا۔یہ قطعی تاریخی حقیقت ہے جس کا کوئی انکار کرنے کی جرأت نہیں کر سکتا لیکن جب وہ صحابی جو آپ کے ساتھ بیٹھے تھے اور آپ کی دعوت میں شریک