آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 264 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 264

فرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 264 باب پنجم صلى الله خلاف سازشوں میں اور ان سازشوں کی مدد میں روپیہ پیسہ خرچ کرنے سے باز نہیں آئے۔تب بعض صحابہ نے جب اجازت ملی تو آنحضور ﷺ نے ان کو اجازت دی۔پس ان دونوں سے قتل کو آنحضرت ﷺ کی گستاخی کے نتیجے میں قتل قرار دینا حد سے بڑھی ہوئی حماقت ہے اور دشمنان اسلام کے ہاتھوں کو مضبوط کرنے والی بات ہے۔اس بات کا قطعی ثبوت خودان واقعات کی تاریخ میں ملتا ہے۔مثلاً جب کعب بن اشرف کا قتل ہوا اور یہودی اس پر بہت سیخ پا ہوئے یہ بنو قینقاع سے تعلق رکھتے تھے۔تو انہوں نے اپنا ایک وفد آنحضور ﷺ کی خدمت میں اس قتل کے خلاف احتجاج کے لئے بھیجا۔اس وفد نے آنحضور کی خدمت میں حاضر ہو کر احتجاج کیا کہ آپ کو کیا اخلاقی حق تھا کہ آپ ہمارے اس رہنما کے قتل کا حکم دیتے یا صحابہ کو اجازت دیتے کہ وہ قتل کرتے۔آنحضور ﷺ نے فرمایا! بیٹھو، میری بات سنو۔یہ واقعہ ہوا ہے ان کی بد عہدی کا ، یہ واقعہ ہوا ہے ان کے ظلم وستم کا، یہ واقعہ ہوا ہے ان کی مفسدانہ کارروائیوں کا، ایک ایک کر کے وہ واقعات بیان فرمائے۔جن کو سن کر وہ وفد لا جواب ہو کر بغیر کسی بعد میں پیدا ہونے والی انتقامی کارروائی کے خیال کے وہاں سے رخصت ہوا اور پھر یہ معاملہ اس وقت کی تاریخ میں ہمیشہ کے لئے دفن کر دیا گیا۔پس یہ حقیقت حال ہے اس کے خلاف اور کوئی کسی قسم کی گواہی نہیں ملتی کہ یہ دو واقعات آنحضور ﷺ نے یعنی یہ دو قتل جن کی اجازتیں وقت کے دستور کے مطابق اور اخلاقی دستور کے مطابق اور شریعت کی اجازت کے مطابق ظالموں کو بد عہدی کی سزا کے طور پر صادر ہوئیں، یہ دونوں احکامات ظالموں کو ان کے ظلم کی سرکوبی کے لئے بد عہدی کے نتیجے میں وہ سزائیں وارد کرنے کے لئے جو ان کا طبعی نتیجہ تھیں، آپ نے جاری فرمائے اور اس کا جنگ رسول سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ورنہ بنک رسول تو مدینے کی گلیوں میں ہو رہی تھی ، گستاخان رسول وہاں آزادانہ دندناتے پھرتے تھے۔وہ کون لوگ تھے جن کا قرآن کریم کی اس سورۃ میں ذکر کیا گیا ہے جو میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی تھی کہ مدینے کی گلیوں میں آنحضور کی گستاخیاں ہو رہی تھیں ، صحابیات کی گستاخیاں ہو رہی تھیں اور قرآن کریم بتاتا ہے کہ پردے کے احکام میں حکم کی