آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 263 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 263

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 263 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ بر طانیہ ۱۹۹۴ء میں فرماتے ہیں:۔دشمنان اسلام دو ایسے واقعات پیش کرتے ہیں جن پر وہ بہت بڑھ بڑھ کر آنحضور کے کردار کے خلاف باتیں کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دیکھو محمد کا چہرہ بے داغ نہیں رہا کیونکہ اس نے بعض لوگوں کے قتل کا حکم جاری کیا۔ان دو قتل کے واقعات میں سے ایک کعب بن اشرف کا قتل ہے اور دوسرا ابو رافع کا قتل ہے۔یہ وہ یہودی لیڈ رتھے جو مدینہ چھوڑ کر دوسری جگہوں میں آباد ہو گئے تھے ، جن کی شرارتوں اور بد عہدیوں کے نتیجے میں ان کو مدینے سے نکال دیا گیا تھا مگر نکلنے کے باوجود یہ اپنی بد عہد یوں کے اوپر قائم رہے اور جو نئے معاہدے اس اخراج کے وقت ہوئے ان کو بھی انہوں نے تو ڑا اور بار بار تو ڑا اور اسلام کے خلاف قوموں کو بھڑکانا یعنی عرب قوموں کو بھڑکانا اور ان کی اموال سے مدد کرنا انہوں نے اپنا پیشہ بنا رکھا تھا۔وہ زمانہ آج کا زمانہ نہیں تھا جہاں کہ Established حکومتیں، مستحکم حکومتیں قائم ہوں اور ایک حکومت کا دائرہ خاص طور پر ایک جغرافیائی حدود سے تعلق رکھتا ہو، ایک دوسری حکومت کا دائرہ ایک اور جغرافیائی حدود سے تعلق رکھتا ہو بلکہ عرب سب کا ایک مشترک ملک تھا۔اس ملک میں علاقائی تقسیمیں سیاسی علاقائی تقسیمیں نہیں تھیں بلکہ محض قبائلی اور فعلی تقسیمیں تھیں خطی جو حکومتوں کے درمیان کوئی خدا نہیں کھینچی تھیں، کوئی Demarcationلائن قائم نہیں کیا کرتی تھیں۔پس عرب میں سب مشترکہ طور پر حقیقت میں با ہمی دوستیوں کے معاہدے اور دشمنوں کے خلاف اکٹھے ہونے کے معاہدوں کی صورت میں رہا کرتے تھے۔اس لئے آج کا مستشرق جب آنحضور ﷺ کے ان دو فیصلوں کے خلاف احتجاج کرتا ہے تو اس کو اس کا کوئی حق نہیں، کیونکہ وہ آج کے حالات کو اس زمانے کے حالات پر صادق کرنے کی کوشش کرتا ہے حالانکہ با لکل مختلف حالات ہیں۔اس زمانے میں اگر عہد شکنی کی جائے تو جس کی عہد شکنی کی جاتی تھی اس کو تمام اخلاقی اور رواجی حق تھا کہ وہ اس کا انتقام لے۔پس آنحضور ﷺ نے ان دونوں ظالموں کے ظلم و ستم پر بہت صبر کیا لیکن یہ اسلام کے صلى الله