آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 261
سرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 261 باب پنجم انحضرت ﷺ نے اس بات کو انتہائی برا منایا اور اس عمل پر سخت نا راضگی کا اظہار فرمایا۔ایک اور واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ آنحضرت ﷺ انسانیت کی کس قد رعزت کیا کرتے تھے۔ایک مرتبہ ایک جنازہ گزررہا تھا تو آنحضرت میں اس کی تکریم میں کھڑے ہو گئے۔اس پر ایک صحابی نے عرض کی کہ یہ جنازہ تو ایک یہودی کا تھا۔آنحضرت ﷺ نے جواباً فرمایا کیا وہ انسان نہیں ؟ تمام انسانوں کا احترام لازم ہے۔یہ وہ خصوصیات ہیں اور وہ اقدار ہیں جو کہ معاشرے میں با ہمی احترام اور امن پیدا کرنے میں محمد ہوتی ہیں۔اس حقیقت کے باوجود کہ اسلامی تعلیمات اور آنحضرت ﷺ کی تعلیمات انسانیت کی محبت سے بھر پور ہیں اور ہر تعلیم معاشرہ میں قیام امن کے گردگھومتی ہے، آج کی دنیا پہلے سے بھی بڑھ کر اسلام اور بانی اسلام پر حملے کر رہی ہے۔افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج کی دنیا اس بات کا ادراک نہیں رکھتی کہ اردگر ددنیا میں کیا ہو رہا ہے جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ مسلمان ہونے کا دعوی کرنے والے چند انتہا پسند افراد کی جانب سے کئے جانے والے برے اعمال کا اسلام کی حقیقی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اگر مسلمان ممالک میں عوام پر ظلم ہو رہا ہے اور عوام کے بنیادی حقوق سلب کئے جارہے ہیں تو یہ بھی کلیۂ اسلامی تعلیمات کے بر خلاف ہے۔آنحضرت ﷺ کا فرمان ہے کہ ایسی حرکتیں خدا تعالیٰ کی خاطر نہیں ہیں بلکہ ان کا مقصد ذاتی مفادات کا حصول ہوتا ہے۔ان تمام باتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے وقت کی عین ضرورت ہے کہ اسلام کے بارے میں یرے خیالات رکھنے اور اسلام کے بارے میں غلط فہمیوں میں مبتلا ہونے کی بجائے وہ تمام افراد جو امن قائم کرنے کے خواہاں ہیں با ہم اکٹھے سر جوڑ کر بیٹھیں اور اس بات پر غور کریں کہ یہ غیر منصفانہ اور ظالمانہ طریق کس طرح رو کے جائیں؟ اسلام کو بد نام کرنا اور زیادتی کرتے ہوئے الزام لگانا ٹھیک طریق نہیں ہے۔مسلمان ممالک اور بعض مسلمان گروپس کے علاوہ اور بھی بہت سے ایسے غیر مسلم افراد ہیں جو کہ امن قائم کرنے