آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 260
فرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 260 باب پنجم مذاہب کی حفاظت کرنے کے لئے بھی اسلام تمام ذرائع بروئے کار لایا۔یہاں تک کہ جہاں مسلمانوں کو دفاعی جنگ کی اجازت دی گئی وہاں پر بھی آنحضرت ﷺ نے مسلمان لشکروں کو انتہائی سخت احکامات صادر فرمائے جن پر عمل کرنا ان پر واجب تھا۔آنحضرت ﷺ نے تعلیم دی کہ جنگ میں صرف ان لوگوں سے لڑنا ہے جو کہ جنگ میں براه راست شامل ہوئے ہیں۔آپ نے بڑا واضح حکم دیا کہ کسی بھی معصوم شخص پر ہر گز حملہ نہ کیا جائے۔نہ ہی کسی عورت، بچے اور معمر شخص پر حملہ کیا جائے۔آپ نے یہ بھی حکم دیا کہ کسی بھی مذہبی را ہنمایا یا دری کو اس کی عبادت گاہ میں نشانہ نہ بنایا جائے۔مزید آنحضرت ﷺ نے تعلیم دی کہ یا کسی بھی شخص کو جبری مسلمان نہ بنایا جائے۔آپ نے تعلیم دی کہ اگر مسلمانوں کو امن کی خاطر جنگ کرنا پڑے تو عوام الناس میں خوف و ہراس نہ پیدا کریں اور نہ ہی عوام الناس پر سختی کی جائے۔آپ نے تعلیم دی کہ جنگی قیدیوں کو توجہ دی جائے اور ان کا ایسا خیال رکھا جائے کہ جیسے انسان خود اپنا خیال رکھتا ہے۔آپ نے تعلیم دی کہ نہ کوئی عمارت گرائی جائے اور نہ ہی درخت کاٹے جائیں۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جہاں حالات اس قدر سنگین ہو گئے کہ جنگ کرنا پڑی، ان حالات میں بھی آنحضرت ﷺ نے مسلمانوں کو بیشمار ایسی ہدایات دیں جن پر عمل ضروری تھا۔میں نے صرف چند ایک کا ذکر کیا ہے۔آنحضرت ﷺ نے بڑے واضح انداز میں فرما دیا کہ جو کوئی بھی ان ہدایات پر عمل نہ کرے گا وہ خدا تعالیٰ کی نظر میں امن قائم کرنے کی خاطر لڑنے والا نہیں ہو گا۔بلکہ ایسا شخص اپنے ذاتی مفادات کی خاطر لڑنے والا ہوگا۔دور حاضر میں جو لوگ بانی اسلام حضرت محمد ﷺ پر اعتراض کرتے ہیں انہیں دیکھنا چاہئے کہ کیا آجکل ہونے والی جنگوں میں ان تعلیمات پر عمل ہو رہا ہے؟ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ آجکل ایسے ہولناک ہتھیار نکل آئے ہیں جن کے ذریعے بغیر کسی تفریق کے معصوم لوگ مارے جارہے ہیں؟ آنحضرت ﷺ نے تو بڑی سختی سے منع فرمایا تھا کہ عوام الناس کو کسی بھی طور کوئی نقصان نہ پہنچے۔یہاں تک کہ ایک جنگ کے موقع پر کسی صحابی سے غلطی سے ایک بچے کا قتل ہو گیا تو