آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 259
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 209 باب پنجم ہے، خدا کسی ایک قوم یا علاقہ کو ترجیح نہیں دیتا۔وہ یہ نہیں چاہتا کہ امن صرف چند ایک افراد کے لئے ہو بلکہ وہ ساری دنیا کو امن، پیار اور ہم آہنگی کا گہوارہ بنتے دیکھنا چاہتا ہے۔اللہ تعالی کی نظر میں اس کی تمام مخلوق برابر اور مساوی ہے۔اگر خدا نے ایک شخص کو کشادگی دی ہے تو اسے یہ حق حاصل نہیں ہو جاتا کہ وہ ایک غریب شخص کے حقوق پامال کرے۔اسی طرح اگر ایک ملک طاقتو راور امیر ہو جانا ہے تو اسے یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ غریب ممالک کے حقوق سلب کرے۔خدا تعالیٰ نے واضح طور پر فرما دیا ہے کہ ایسے مظالم صرف تفریق اور جھگڑوں کا باعث بنتے ہیں۔خدا تعالی کی نظر میں امن اور اس کا قیام ایک عظیم اور اہم ترین مقصد ہے۔اگر کبھی کبھار آپ کو کسی چھوٹے پیمانے پر امن کی قربانی دینی پڑے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ یہ قربانی پھرانسانیت کے وسیع تر مفاد میں ہوتی ہے۔جب اسلام میں پہلی مرتبہ دفاعی جنگ کرنے کی اجازت دی گئی تو اس کی بھی یہی وجہ تھی کہ مسلمان حقیقی امن چاہتے ہیں اور کفار اس امن کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔اگر اس موقع پر جوابی لڑائی کی اجازت نہ دی جاتی تو تمام مذاہب انتہائی خطرہ میں پڑ جاتے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے:۔ان لوگوں کو جن کے خلاف قتال کیا جا رہا ہے (قتال کی اجازت دی جاتی ہے کیونکہ ان پر ظلم کئے گئے اور یقینا اللہ تعالی ان کی مدد پر پوری پوری قدرت رکھتا ہے۔(یعنی) وہ لوگ جنہیں ان کے گھروں سے ناحق نکالا گیا محض اس بنا پر کہ وہ کہتے تھے کہ اللہ ہمارا رب ہے اور اگر اللہ کی طرف سے لوگوں کا دفاع ان میں سے بعض کو بعض دوسروں سے بھڑا کر نہ کیا جاتا تو راہب خانے منہدم کر دیئے جاتے اور گرجے بھی اور یہود کے معاہد بھی اور مساجد بھی جن میں بکثرت اللہ کا نام لیا جاتا ہے اور یقینا اللہ ضرور اس کی مددکرے گا جو اس کی مدد کرتا ہے۔یقینا اللہ بہت طاقتور (اور) کامل غلبہ والا ہے۔(انج: ۴۰-۴۱) (MLM) لہذا یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسلام نے امن کے قیام کے لئے ہر ممکن کوشش کی اور اسی طرح تمام