آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 258 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 258

فرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 258 باب پنجم تا ہم ایسے لوگ بھی ہیں جو اس تعلیم پر عمل نہیں کرتے ، ایسے لوگ اپنے اردگرد کے معاشرے اور پھر تمام دنیا میں فساد پھیلانے کے درپے ہیں۔ایسے لوگوں کی اصلاح کے لئے اسلام نے بڑی واضح اور تفصیلی را ہنمائی فرمائی ہے تا کہ عالمی امن اور ہم آہنگی کو یقینی بنایا جا سکے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے: اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کو ایک دوسرے کے ہاتھوں بچانے کا سامان نہ کیا جاتا تو زمین ضرور فساد سے بھر جاتی۔لیکن اللہ تعالی تمام جہانوں پر بہت فضل کرنے والا ہے۔(البقره: ۲۵۲) اگر ہم اس آیت کریمہ کے معنی پر غور کریں تو ہم دیکھتے ہیں کہ بلا شبہ امن کا قیام سب سے اہم ترین مقصد ہے اور اسی وجہ سے قدرتی طور پر اللہ تعالی نے انسانی فطرت میں امن کی کشش رکھی ہوئی ہے۔لیکن ایسا بھی ہوتا ہے کہ بعض اوقات انسان اپنی فطرتی صلاحیتوں یا فطرتی ترجیحات کے بر خلاف عمل کرتا ہے۔انسان کی لالچ ، حسد، خود غرضی اور نفرت کے جذبات اس پر حاوی ہو جاتے ہیں اور اسے اس حد تک مجبور کر دیتے ہیں کہ دوسروں کے حقوق کا اسے بالکل خیال نہیں رہتا۔نتیجتاً معاشرے میں بدامنی پھیلتی ہے اور پھر یہی بد امنی سارے ملک اور وسیع دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ایسے لوگ امن کی راہ سے بہت دور ہٹے ہوئے ہیں۔معاشرہ جس آزادی کو پسند کرتا ہے، اس آزادی کو پامال کرنے کی خواہش ان کا اولین مقصد بن جاتا ہے۔یہ لوگ پھر جبر کرتے ہوئے اور طاقت کا استعمال کرتے ہوئے بنیادی انسانی حقوق جیسا کہ آزادی ضمیر اور سوچ کی آزادی پر پابندیاں لگاتے ہیں۔یقیناً ایسے لوگ مذہبی آزادی پر بھی حملہ کرتے ہیں اور یہ آزادی بھی لوگوں سے چھیننے کی کوشش کرتے ہیں۔جب اسلام کے ابتدائی دور میں ان حالات کا سامنا کرنا پڑا تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اجازت دی کہ وہ طاقت کا مقابلہ طاقت سے کریں۔یہ اجازت صرف اس مقصد کے لئے دی گئی کہ فساد ختم ہو ، اس وجہ سے اس کی اجازت دی گئی کہ ظلم و سفاکی کا خاتمہ ہو اور امن اور ہم آہنگی کا دور دورہ ہو۔اللہ تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ خدا تمام جہانوں کے لئے رحمت اور فضل نازل کرنا