آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 257
نحضرت پیر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 207 باب پنجم خواہش تھی کہ آپ ساری زندگی اس مقصد کو پورا کرنے کے لئے ہمیشہ تیار رہے۔حتی کہ نبوت کے مقام پر فائز ہونے کے بعد بھی جو کہ ایک بہت بڑی ذمہ داری اور انتہائی مشکل کام تھا۔آپ نے فرمایا کہ اگر کوئی بھی شخص خواہ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم آپ کو انسانیت کی خدمت کے لئے بلائے گا تو آپ لازماً اس انسانیت کی خدمت کرنے کی کوشش میں شامل ہوں گے۔تو یہ آپ ﷺ کا نمونہ تھا کہ اگر کوئی ضرورتمند شخص یا معاشرہ کے محروم طبقہ سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی شخص مدد مانگنے کے لئے آتا تو آپ بغیر کسی مذہب کی تفریق کئے اس کی مدد کرنا اپنا فرض سمجھتے۔بحیثیت بانی اسلام اور نبی اللہ ہونے کے آپ کا رتبہ انتہائی بلند تھا۔لیکن اس کے باوجود بھی آپ غیر مسلموں کے ساتھ مل کر اس نیک مقصد پر کام کرنے کو بہت زیادہ اہمیت دیتے۔بعض افراد کے ذہن میں یہ سوال اٹھ سکتا ہے کہ اگر آ نحضرت ﷺ کا دل انسانیت کی محبت سے معمور تھا تو کیونکر آپ کا نام جنگ و جدل کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے۔آنحضرت ﷺ نے الله کیونکر بعض جنگوں میں حصہ لیا اور کیونکر بعض فوجیں تیار کر سکے لشکر کشی کے لئے روانہ کیں؟ اس سوال کے جواب کے لئے ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا یہ نظریہ درست ہے کہ جنگ کسی بھی صورت میں نہ کی جائے اور ہر حال میں ہی نرم رویہ اختیار کیا جائے ؟ یا پھر بعض انتہائی ناگزیر حالات میں جنگ کی اجازت دی جاسکتی ہے؟ اور اگر بعض حالات میں جنگ کی اجازت دی جاسکتی ہے تو وہ کونسے ایسے حالات ہیں جن میں جنگ جائز ہو جاتی ہے اور پھر جنگ کس حد تک جائز ہے ؟ اسلام ہمیں اس بارے میں کیا بتا تا ہے؟ جیسا کہ میں نے پہلے بھی واضح کیا ہے جب ایک مسلمان تمام جہانوں کے رب کی مدح کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی مخلوق کا حسن اس کے سامنے آجاتا ہے اور وہ خدا کے ساتھ ساتھ اس کی مخلوق کی بھی مدح کرتا ہے اور اس کی طرف کھچا جاتا ہے۔جب انسان اس حسن کا ادراک حاصل کرتا ہے تو پھر اس کے دل میں مخلوق کے لئے کسی بھی قسم کی بری سوچ یا نقصان پہنچانے کا خیال نہیں رہ سکتا۔