آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 256
نفرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 200 باب پنجم جس سے صاف ظاہر ہے کہ آپ کو جتھے کی پرواہ نہ تھی۔تیسری بات والله يَعْصِكَ مِنَ النَّاسِ (المائدہ (۶۸) کا نزول ہے جس پر آپ ﷺ نے پہرہ دینے سے منع کر دیا۔ایسا ہی اس رکوع میں حضرت نوح کے حالات پر غور کرو کہ اکیلا شخص پکارتا ہے فَأَجمعوا أَمْرَكُمْ وَشُرَكَاءَ كُمْ ثُمَّ لَا يَكُن أَمْرَكُمْ عَلَيْكُمْ عُمَةٌ ثُمَّ اقْضُوالَى وَلَا تُنظرُونِ (پلی (۷۲) کیا اس کلام کو پڑھ کر یہ شک بھی رہ سکتا ہے کہ نبیوں کو پچھوں کی پرواہ ہوتی ہے۔پھر حضرت موسیٰ کے واقعات پر غور کرو کہ جب آگے دریائے نیل تھا اور پیچھے فرعون کی فوج۔اس وقت اصحاب موسطی نے کہا إِنَّا لَمُدْرَكُونَ (الشعراء:۱۲) مگر حضرت موسی کی اطمینان سے کہتے ہیں کہ گلا اِن مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِينِ (الشعراء (١٣) پس مکہ شریف میں نبی کریم ﷺ کا صبر اس لئے تھا کہ یہ لوگ کسی طرح سمجھے جاویں۔☆ ضمیمه اخبار بد ر قادیان ۹ / دسمبر ۱۹۰۹ء) آپ ﷺ نے جنگیں کیوں کیں اور فوجیں کیوں روانہ کیں اس اعتراض کا جواب حضرت خلیفتہ اریح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصر والعزیز نے مورحہ ارمئی ۲۰۱۳ ء کو لاس اینجلس امریکہ کی ایک پر وقار استقبالیہ میں خطاب کے دوران ان الفاظ میں ارشاد فرمایا: پس یہ بہت بڑی نا انصافی ہے کہ آج کے دور میں بہت سے لوگ آپ کے مبارک کر دار کو یہ کہتے ہوئے داغدار کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ نعوذ باللہ آپ نے ظلم و ستم اور نا انصافی کی تعلیمات دیں۔آج جب ہم بطو را حمدیہ مسلم جماعت دنیا میں محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں کا نعرہ جو کہ دنیا میں امن کے قیام کا ایک ذریعہ ہے بلند کرتے ہیں تو ہم رسول کریم ﷺ کی تعلیمات اور آپ کے اسوۂ کے مطابق ہی ایسا کرتے ہیں۔آپ کے دل میں انسانیت کی خدمت کرنے اور حقوق العباد ادا کرنے کی اس قد رشدید