آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 255 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 255

نفرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 250 باب پنجم چھوڑ دیا۔آج کل جو لوگ غذاری کرتے ہیں اور باغی ہوتے ہیں انہیں کون پناہ دے سکتا ہے۔جب ہندوستان میں غدر ہو گیا تھا اور اس کے بعد انگریزوں نے تسلط عام حاصل کر لیا تو تمام شریر باغی بلاک کر دیئے گئے اور ان کی یہ سزا با لکل انصاف پر مبنی تھی۔باقی کے لئے کسی قانون میں رہائی نہیں۔لیکن یہ آپ ہی کا حوصلہ تھا کہ اس دن آپ نے فرمایا کہ جاؤ تم سب کو بخش دیا۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کو نوع انسان سے بہت بڑی ہمدردی تھی۔ایسی ہمدردی کہ اس کی نظیر دنیا میں نہیں مل سکتی۔“ ( ملفوظات جلد ۴ صفحه ۲۱۸ مطبوعه نظارت اشاعت ربوہ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) ☆ تلوار اٹھانے کے بارے میں الزام کے جواب میں حضرت خلیفہ اسیح الاول بیان فرماتے ہیں:۔د کئی ایک تاریخوں میں میں نے پڑھا ہے کہ رسول اللہ ہے جن دنوں میں مکہ میں بودوباش رکھتے تھے۔آپ نے مخالفین کی ایذا رسانی کے مقابلہ میں کچھ نہ کیا مگر مدینہ جاتے ہی جب لکھا ہو گیا تو لڑائی شروع کر دی۔یہ بالکل غلط ہے کہ نبی تھے کے منتظر رہتے ہیں۔تین طرح سے اس کی تردید ہوگی۔ایک جگہ فرمایا۔لا تكلف إِلَّا نَفْسَكَ اور مومنوں کے لئے صرف حَرْضِ الْمُؤْمِنِينَ (النساء:۸۵) فرمایا پھر نبی کریم ﷺ کے سایہ عاطفت میں بارہ ہزار تھی۔جب آپ غزوہ حنین کو جا رہے تھے کسی کو خیال اُٹھا کہ اب ہم اتنے ہزار میں ہمارا کون مقابلہ کر سکتا ہے۔وہاں آیتیں نازل ہوئیں۔ويَوْمَ حَنَيْنٍ إِذْ أَعْجَتُكُمْ كَثْرَ تَكُمْ چنانچہ یہ کہنا تھا کہ ہوازن کے سو آدمیوں نے شکست دی اور اس وقت صحابہ کی یہ حالت ہوئی۔وَضَاقَتْ عَلَيْكُمُ عَلَيْكُمُ الْأَرْضَ (التوبہ ۲۵ ) بھاگنے کی بھی جگہ نہ رہی۔رسول کریم ﷺ ایک خچر پر سوار تھے۔جب دیکھا کہ لوگ پیٹھ پھیرے بھاگے جا رہے ہیں تو حارث کو کہا کہ باگ موڑ دو اور ایسے خطرے کے وقت میں فرمایا : آنا النبي لا كذب آنا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبُ