آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 254
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 204 باب هجم الله تیرہ برس تک آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام صبر کرتے رہے پھر باوجود اس کے کہ دشمنوں کا تعاقب کرتے تھے مگر صلح کے خواستگار ہوتے تھے کہ کسی طرح جنگ نہ ہو اور جو مشرک تو میں صلح اور امن کی خواستگار ہوتیں ان کو امن دیا جاتا اور مسلح کی جاتی۔اسلام نے بڑے بڑے پیچوں سے اپنے آپ کو جنگ سے بچانا چاہا ہے۔جنگ کی بنیا د کو خو وخدا تعالی بیان فرماتا ہے کہ چونکہ یہ لوگ بہت مظلوم ہیں اور ان کو ہر طرح دکھ دیا گیا ہے اس لئے اب اللہ تعالیٰ اجازت دیتا ہے کہ یہ بھی ان کے مقابلہ میں لڑیں۔ورنہ اگر تعصب ہوتا تو یہ حکم پہنچتا کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ دین کی اشاعت کے واسطے جنگ کریں لیکن ادھر حکم دیا کہ لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ (البقره: ۲۵۷) یعنی دین میں کوئی زیر دستی نہیں ہے اور ادھر جب غایت درجہ کی تختی اور ظلم مسلمانوں پر ہوئے تو پھر مقابلہ کا حکم دیا“۔( ملفوظات جلد ۲ صفحه ۵۸۸ مطبوعه نظارت اشاعت ربو و ایڈیشن ۲۰۰۳ء) جنگوں پر اعتراضات کے جواب میں حضور علیہ السلام فرماتے ہیں:۔ہ بعض لوگ جن کو حق کے ساتھ دشمنی ہوتی ہے۔جب ایسی تعلیم سنتے ہیں تو اور کچھ نہیں تو یہی اعتراض کر دیتے ہیں کہ اسلام میں ہمدردی اگر ہوتی تو آنحضرت ﷺ نے لڑائیاں کیوں کی تھیں؟ وہ نا دان اتنا نہیں جانتے کہ آنحضرت ﷺ نے جو جنگ کئے وہ تیرہ برس تک خطرناک دکھ اٹھانے کے بعد کئے اور وہ بھی مدافعت کے طور پر۔تیرہ برس تک ان کے ہاتھوں سے آپ تکالیف اٹھاتے رہے۔مسلمان مرد اور عورتیں شہید کی گئیں۔آخر جب آپ مدینہ تشریف لے گئے اور وہاں بھی ان ظالموں نے پیچھا نہ چھوڑا تو خدا تعالیٰ نے مظلوم قوم کو مقابلہ کا حکم دیا اور وہ بھی اس لئے کہ شریروں کی شرارت سے مخلوق کو بچایا جائے اور ایک حق پرست قوم کے لئے راہ کھل جائے۔آنحضرت ﷺ نے کبھی کسی کے لئے بدی نہیں چاہی۔آپ تو رحم مجسم تھے۔اگر بدی چاہتے تو جب آپ نے پورا تسلط حاصل کر لیا تھا اور شوکت اور غلبہ آپ کو مل گیا تھا تو آپ ان تمام اہمتہ الکفر کو جو ہمیشہ آپ کو دکھ دیتے رہتے تھے قتل کروا دیتے اور اس میں انصاف اور عقل کی رُو سے آپ کلیلہ بالکل پاک تھا۔مگر با وجود اس کے کہ عرف عام کے لحاظ سے اور عقل اورا انصاف کے لحاظ سے آپ کو حق تھا کہ ان لوگوں کو قتل کروادیتے مگر نہیں ، آپ نے سب کو