آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 253 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 253

ضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 253 باب پنجم چالیس ہزار فوج کی جمعیت حاصل کر لینا ضروری تھا اور پھر اس کے بعد لاکھوں انسانوں کا مقابلہ کرنا۔لہذا صاف ظاہر ہے کہ یہ لڑائی مجبوری کے وقت خدا تعالیٰ کے حکم سے ہوئی تھی نہ ظاہری سامان کے بھروسہ پر۔(سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کے جواب ، روحانی خزائن جلد نمبر ۱۲ صفه هم ۳۶ تا ۳۶۵)۔۔الله ☆ اس اعتراض کا جواب ملفوظات میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام یوں بیان فرماتے ہیں : پادری جو آنحضرت ﷺ کی لڑائیوں پر اعتراض کرتے ہیں اپنے گھر میں نگاہ نہیں کرتے۔آنحضرت ﷺ کی لڑائیاں بالکل دفاعی تھیں مگر مسیح کو اس قدر شوق تھا کہ اس نے شاگردوں کو کہا کہ کپڑے بیچ کر بھی ہتھیار خریدو۔اصل میں مسیح کا لڑائیاں نہ کرنا مستر بی بی از بے چادری" کا مصداق ہے۔اگر انہیں موقع ملتا تو وہ ہرگز تامل نہ کرتے بلکہ اس قسم کی تعلیم سے جو انہوں نے ہتھیاروں کے خریدنے کی دی صاف معلوم ہوتا ہے کہ انہیں کس قدر شوق تھا اور داؤد کے تخت کی وراثت کا خیال لگا ہوا تھا۔آنحضرت ﷺ نے جب مکہ فتح کیا تو آپ نے ان مخالفوں سے جنہوں نے سخت ایذائیں دی ہوئی تھیں اور جواب واجب القتل ٹھہر چکے تھے پوچھا تمہارا میری نسبت کیا خیال ہے۔انہوں نے کہا تو کریم ابن کریم ہے تو آپ نے فرمایا اچھا میں نے تم سب کو بخش دیا۔آپ کے اس رحم و کرم نے ان پر ایسا اثر کیا کہ وہ سب مسلمان ہو گئے۔حضرت مسیح کو اپنے ایسے اخلاق کے اظہار کا موقع ہی نصیب نہیں ہوا اور حواریوں کے لئے تو مسیح کا آنا ایک قسم کا ابتلا تھا کیونکہ ان کو کوئی فائدہ نہ ہوا اور انہوں نے کچھ نہ سیکھا۔“ ( ملفوظات جلد ۲ صفحه ۴۶۳ مطبوعه نظارت اشاعت ربوہ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) پھر حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: اب تلوار سے کام لینا تو اسلام پر تلوار مارنا ہے۔اب تو دلوں کو فتح کرنے کا وقت ہے اور یہ بات جبر سے نہیں ہو سکتی۔یہ اعتراض کہ آنحضرت ﷺ نے پہلے تلوار اٹھائی بالکل غلط ہے۔