آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 252
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 252 باب پنجم خدا تعالیٰ نے ان ہی مفسدوں کے مقابل پر لڑائیوں کا حکم کیا۔اور یہ کہنا کہ آنحضرت ﷺ نے تیرہ برس تک اس وجہ سے مخالفوں سے لڑائی نہیں کی کہ اس وقت تک پوری جمعیت حاصل نہیں ہوئی تھی یہ محض ظالمانہ اور مفسدانہ خیال ہے۔اگر صورت حال یہ ہوتی کہ آنحضرت ﷺ کے مخالف تیرہ برس تک ان ظلموں اور خونریزیوں سے باز رہتے جو مکہ میں ان سے ظہور پذیر ہوئے اور پھر آپ منصوبہ کر کے یہ تجویز نہ کرتے کہ یا تو آنحضرت ﷺ کوقتل کر دینا چاہئے اور یا وطن سے نکال دینا چاہئے اور آنحضرت ﷺ آپ ہی بغیر حملہ مخالفین کے مدینہ کی طرف چلے جاتے تو ایسی بدلیوں کی کوئی جگہ بھی ہوتی لیکن یہ واقعہ تو ہمارے مخالفوں کو بھی معلوم ہے کہ تیرہ برس کے عرصہ میں ہمارے نبی سے دشمنوں کی ہر ایک تختی پر صبر کرتے رہے اور صحابہ کو سخت تا کی تھی کہ تاکید بدی کا مقابلہ نہ کیا جائے چنانچہ مخالفوں نے بہت سے خون بھی کئے اور غریب مسلمانوں کو ز دو کوب کرنے اور خطرناک زخم پہنچانے کا تو کچھ شمار نہ رہا۔آخر آنحضرت ﷺ کے قتل کرنے کے لئے حملہ کیا۔سو ایسے حملہ کے وقت خدا نے اپنے نبی کوشر اعدا سے محفوظ رکھ کر مدینہ میں پہنچا دیا اور خوشخبری دی کہ جنہوں نے تلوار اٹھائی وہ تلوا رہی سے ہلاک کئے جائیں گے۔پس ذراعقل اور انصاف سے سوچو کہ کیا اس روئداد سے یہ نتیجہ نکل سکتا ہے کہ جب آنحضرت ﷺ کے پاس کچھ جمعیت لوگوں کی ہوگئی تو پھر لڑائی کی نیت جو پہلے سے دل میں پوشیدہ تھی ظہور میں آئی؟ افسوس ہزار افسوس کہ تعصب مذہبی کے رو سے عیسائی دین کے حامیوں کی کہاں تک نوبت پہنچ گئی ہے۔یہ بھی نہیں سوچتے کہ دینہ میں جا کر جب مکہ والوں کے تعاقب کے وقت بدر کی لڑائی ہوئی جوا سلام کی پہلی لڑائی ہے تو کونسی جمعیت پیدا ہو گئی تھی۔اس وقت تو کل تین سو تیرا آدمی مسلمان تھے اور وہ بھی اکثر نو عمر نا تجربہ کار جو میدان بدر میں حاضر ہوئے تھے۔پس سوچنے کا مقام ہے کہ کیا اس قدر آدمیوں پر بھروسہ کر کے عرب کے تمام بہادروں اور یہود اور نصاری اور لاکھوں پر کے انسانوں کی سرکوبی کیلئے میدان میں کسی کا نکلنا عقل فتوی دے سکتی ہے ؟!!! اس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ نکلنا ان تدبیروں اور ارادوں کا نتیجہ نہیں تھا جو انسان دشمنوں کے ہلاک کرنے اور اپنی فتح یابی کیلئے سوچتا ہے۔کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو کم سے کم تھیں