آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 251
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 201 باب پنجم اور جمالی احکام میں اس خط مستقیم عدل اور انصاف اور رحم اور احسان پر چلتا ہے جس کی نظیر دنیا میں کسی کتاب میں موجود نہیں مگر اندھے دشمن پھر بھی اعتراض کرتے ہیں کیونکہ ان کی فطرت روشنی سے عداوت اور ظلمت سے محبت رکھتی ہے۔اب اس اشتہار کی تحریر سے یہ غرض ہے کہ ہم نے بڑے لیے تجربہ سے آزما لیا ہے کہ یہ لوگ بار بار ملزم اور لاجواب ہو کر پھر بھی نیش زنی سے باز نہیں آتے اور اس شخص کو تمام عیبوں سے مبرا سمجھتے ہیں جس نے خود اقرار کیا کہ میں نیک نہیں اور جس نے شراب خواری اور قمار بازی اور کھلے طور پر دوسروں کی عورتوں کو دیکھنا جائز رکھ کر بلکہ آپ ایک بد کار کنجری سے اپنے سر پر حرام کی کمائی کا تیل ڈلوا کر اور اس کو یہ موقعہ دے کر کہ وہ اس کے بدن سے بدن لگاوے اپنی تمام اُمت کو اجازت دے دی کہ ان باتوں میں سے کوئی بات بھی حرام نہیں۔سو ایسے شخص کو تو انہوں نے خدا بنا لیا مگر خدا کے مقدس نبیوں کو جن کی زندگی محض خدا کے لئے تھی اور جو تقویٰ کی باریک راہوں کو سکھا گئے برا کہنا اور گالیاں دینا شروع کر دیا چنا نچہ اب تک یہ لوگ باز نہیں آئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو میں نہایت ناپاک اور رنجیدہ تھی کر نکالتے ہیں اور نہایت بری تصویروں میں اس پاک وجود کو دکھلاتے ہیں انجام تکلم، روحانی خزائن جلد نمبر صفحه ۱۳۱ ۳۸۴) ☆ سراج الدین عیسائی نے یہ اعتراض بھی پیش کیا کہ آپ کو مکہ میں چونکہ جمعیت حاصل نہیں تھی اس لئے مدینہ آکر لڑائیاں کیں۔اس کے جواب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں : اسلام نے یہودیوں کے ساتھ تو حید منوانے کیلئے لڑائیاں نہیں کیں بلکہ اسلام کے مخالف خود اپنی شرارتوں سے لڑائیوں کے محرک ہوئے۔بعض نے مسلمانوں کے قتل کرنے کیلئے خود پہلے پہل تلوار اٹھائی۔بعض نے ان کی مدد کی۔بعض نے اسلام کی تبلیغ روکنے کیلئے بے جا مزاحمت کی۔سو ان تمام موجبات کی وجہ سے مفسدین کی سرکوبی اور سزا اور شرکی مدافعت کیلئے