آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 248
محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 248 آپ ﷺ کی جنگوں پر بے جا اعتراضات عیسائی پادری صاحبان نے بالخصوص آنحضور کی جنگوں پر اعتراض اٹھایا ہے اس کا الله جواب دیتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی کتاب آریہ دھرم میں فرماتے ہیں:۔ایک بڑا اعتراض جس سے بڑھ کر شاید ان کی نظر میں اور کوئی اعتراض ہمارے نبی پر نہیں ہے وہ لڑائیاں ہیں جو آنحضرت ﷺ کو باذن اللہ ان کفار سے کرنی پڑیں جنہوں نے آنحضرت نے پر مکہ میں تیرہ برس تک انواع اقسام کے ظلم کئے اور ہر یک طریق سے ستایا اور دکھ دیا اور پھر قتل کا ارادہ کیا جس سے آنحضرت مے کو معہ اپنے اصحاب کے مکہ چھوڑنا پڑا اور پھر بھی باز نہ آئے اور تعاقب کیا اور ہر یک بے ادبی اور تکذیب کا حصہ لیا اور جو مکہ میں ضعفاء مسلمانوں میں سے رہ گئے تھے ان کو غایت درجہ دکھ دینا شروع کیا لہذا وہ لوگ خدا تعالیٰ کی نظر میں اپنے ظالمانہ کاموں کی وجہ سے اس لائق ٹھہر گئے کہ ان پر موافق سنت قدیمہ الہیہ کے کوئی عذاب نازل ہو اور اس عذاب کی وہ قو میں بھی سزا وار تھیں جنہوں نے مکہ والوں کو مدددی اور نیز وہ قومیں بھی جنہوں نے اپنے طور سے ایذا اور تکذیب کو انتہا تک پہنچایا۔اور اپنی طاقتوں سے اسلام کی اشاعت سے مانع آئے سو جنہوں نے اسلام پر تلواریں اٹھا ئیں وہ اپنی شوخیوں کی وجہ پر سے تلواروں سے ہی ہلاک کئے گئے اب اس صورت کی لڑائیوں پر اعتراض کرنا اور حضرت موسیٰ اور دوسرے اسرائیلی نبیوں کی ان لڑائیوں کو بھلا دینا جن میں لاکھوں شیر خوار بچے قتل کئے گئے کیا یہ دیانت کا طریق ہے یا نا حق کی شرارت اور خیانت اور فساد انگیزی ہے۔اس کے جواب میں حضرات عیسائی یہ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی لڑائیوں میں بہت ہی نرمی پائی جاتی ہے کہ اسلام لانے پر چھوڑا جاتا تھا اور شیر خوار بچوں کو قتل نہیں کیا۔اور نہ عورتوں کو اور نہ بڑھوں کو اور نہ فقیروں اور مسافروں کو مارا۔اور نہ عیسائیوں اور یہودیوں کے گر جاؤں کو مسمار کیا۔لیکن اسرائیلی نبیوں نے ان سب باتوں کو کیا۔یہاں تک کہ تین لاکھ سے بھی کچھ زیادہ شیر خوار بچے قتل کئے گئے کو یا حضرات پادریوں کی نظر میں اس نرمی کی وجہ سے اسلام کی لڑائیاں قابل اعتراض ٹھہریں