آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 247
نحضرت پیر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 247 باب پنجم معاوضہ کے آزاد کر دیا گیا کہ عرب کے ایک مشہور یخی حاتم طائی کی بیٹی جو خود ان قیدیوں میں شریک تھی اپنی آزادی صرف اس طرح پر قبول کرنے کے لئے تیار تھی کہ باقی قیدیوں کو بھی ساتھ رہا کیا جائے چنانچہ ایک گزرے ہوئے حاتم کی سخاوت کے نام پر اس کی قوم کے شریروں کو رہا کر دیا گیا اور اس موقع پر بنو عبد المطلب کے قیدیوں کی کوئی شرط نہ رکھی کیونکہ یہاں جس بنا پر قید یوں کو رہا کیا جا رہا تھا وہ سارے عرب میں مشترک تھی۔حاتم کی سخاوت ایک قومی سرمایہ تھی جس پر فخر کرنے میں سارا عرب شریک تھا۔+ ان حالات پر جب نظر پڑتی ہے تو بے اختیار دل آپ پر درود بھیجنے لگتا ہے اور کسی طرح یقین نہیں آتا کہ اس سراپا رحمت و شفقت اور سب کریموں سے بڑھ کر کریم نبی پر بھی کوئی یہ الزام لگا سکتا ہے کہ آپ کی کوئی ایک جنگ بھی اسلام پھیلانے کی غرض سے تھی یا اس غرض سے تھی کہ تلوار کے پھل سے دلوں کی زمین میں ہل چلا کر اسلام کا بیج بویا جائے۔نظریات کی اشاعت کے یہ تصورات تو کارل مارکس، لینن اور سٹالن کے تصورات تھے۔پھر مولانا کیوں نہیں سوچتے کہ اس اشترا کی سطح سے بہت بالا تھے اس سید ولد آدم کے خیالات، جس کی اُڑان سدرۃ المنتہی کی بلندیوں تک تھی اور جو تمام مخلوقات میں سب سے اعلیٰ اور ارفع مقام تک جا پہنچا تھا۔" مذہب کے نام پر خون صفحہ 71155 ساز حضرت مرزا طاہر احمد خلید امسیح الرابع)