آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 249
آنحضرت پیر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 249 باب پنجم کہ ان میں وہ سختی نہیں جو حضرت موسیٰ اور دوسرے اسرائیلی نبیوں کی لڑائیوں میں تھی اگر اس درجہ کی تختی پر یلڑائیاں بھی ہوئیں تو قبول کر لیتے کہ در حقیقت یہ بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔اب ہر یک عقلمند کے سوچنے کے لائق ہے کہ کیا یہ جواب ایمانداری کا جواب ہے حالانکہ آپ ہی کہتے ہیں کہ خدارحم ہے اور اس کی سزا رحم سے خالی نہیں۔پھر جب موسیٰ کی لڑائیاں باوجود اس سختی کے قبول کی گئیں اور خدا تعالیٰ کیطرف سے ٹھہریں تو کیوں اور کیا وجہ کہ یہ لڑائیاں جو الہی رحم کی خوشبو ساتھ رکھتی ہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہ ہو ئیں اور ایسے لوگ کہ ان باتوں کو بھی خدا تعالیٰ کے احکام سمجھتے ہیں کہ شیر خوار بچے ان کی ماؤں کے سامنے ٹکڑے ٹکڑے کئے جائیں اور ماؤں کو ان کے بچوں کے سامنے بے رحمی سے مارا جاوے وہ کیوں ان لڑائیوں کو خدا تعالی کی طرف سے نہ مجھیں جن میں یہ شرط ہے کہ پہلے مظلوم ہو کر پھر ظالم کا مقابلہ کرو۔☆ آریہ دھرم، روحانی خزائن جلده اصفحه ۸ تا ۸۳ حاشیه ) حضرت مسیح موعود علیہ السلام آنحضور پر آپ کی جنگوں کے حوالہ سے پادریوں کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے انجام آتھم میں فرماتے ہیں:۔بعض پلید فطرت پادریوں نے اپنی تالیفات میں اس طرح ہمارے سید ومولی خاتم الانبیا ﷺ کی تصویر کھینچ کر دکھلائی ہے کہ گویا وہ ایک ایسا شخص ہے جس کی خونی صورت صلى الله ہے اور غصہ سے بھرا ہوا کھڑا ہے اور ایک متکی تلوار ہاتھ میں ہے اور بعض غریب عیسائیوں وغیرہ کو ٹکڑہ لکڑہ کرنا چاہتا ہے لیکن اگر ان لوگوں کو کچھ انصاف اور ایمان میں سے حصہ ہوتا تو اس تصویر سے پہلے موسیٰ کی تصویر کھینچ کر دکھلاتے اور اس طرح کھینچتے کہ گویا ایک نہایت سخت دل اور بے رحم انسان ہاتھ میں تلوار لے کر شیر خوار بچوں کو ان کی ماؤں کے سامنے ٹکڑے ٹکڑے کر رہا ہے اورایسا ہی بیشوع بن نون کی تصویر پیش کرتے اور اس تصویر میں یہ دکھلاتے کہ گویا اس نے لاکھوں بے گناہ بچوں کو ان کی ماؤں کے سمیت ٹکڑے ٹکڑے کر کے میدان میں پھینک دیا ہے۔