آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 246 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 246

فرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 246 باب پنجم بنو عبد المطلب کے حصہ کے ہیں ان کو لے جاؤ وہ آزاد ہیں۔یہ چند کلمات آپ کے بے مثال خُلق اور گہری فراست پر وسیع روشنی ڈالتے ہیں۔اول تو ایک دور کی رضاعی ماں کی یاد میں اس قبیلہ کے بعد میں آنے والے ظالموں کو جو اپنی فطرت سے تو آپ کو ہلاک کرنے کی پوری کوشش کر چکے تھے اس طرح معاف فرما دینا ایک بے حد پیارا اور کریمانہ فعل ہے۔دوسرے آپ کا یہ فرمانا کہ صرف بنو عبد المطلب کے حصہ کے قیدی آزاد ہیں آپ کی فراست اور مطلق کے بعض اور پہلوؤں پر بھی عجیب روشنی ڈالتا ہے۔معلوم ہوتا ہے کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دل تو یہی چاہتا تھا کہ سب کو معاف کر کے آزاد کر دوں مگر چونکہ حضرت حلیمہ کی رضاعت کا تعلق محض آپ کی ذات یا زیادہ سے زیادہ اس واسطہ سے آپ کے خاندان کے ساتھ ہو سکتا تھا اس لئے آپ نے یہ پسند نہ فرمایا کہ ایک ذاتی تعلق کی بنا پر باقی مسلمانوں کو بھی اس احسان کا پابند کر دوں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر چہ آپ کے رحم و کرم کی خصلت تمام انسانوں میں اپنی وسعت اور گہرائی کے لحاظ سے بے مثال تھی لیکن غیر متوازن نہ تھی۔آپ ایک ایسے رحم دل انسان کی طرح نہ تھے جو اپنے رحم و کرم کے جوش میں دوسروں کے حقوق بھی لوگوں کو بخش دیتا ہے۔چنانچہ آپ نے ایسا نہ کیا بلکہ جو طریق اختیار کیا وہ جو دو کرم کے آسمان پر ہمیشہ چاند ستاروں کی طرح چمکتا رہے گا۔آپ جانتے تھے کہ اگر اس بارہ میں لوگوں سے مشورہ کرنے کی بجائے میں نے قیدیوں کو آزاد کرنے کی ایک عملی مثال قائم کر دی تو کسی مسلمان گھر میں کوئی قیدی نہ رہے گا۔پس آپ نے ایسا ہی کیا اور جب آپ کے اس فرمان کی خبر عشاق کے کانوں تک پہنچی کہ ”میرے اور بنو عبد المطلب کے حصہ کے سب قیدی آزاد ہیں تو انہوں نے بے اختیار عرض کی کہ اے ہمارے محبوب ما كَانَ لَنَا فَهُوَ لِرَسُولِ اللهِ جو کچھ ہمارا ہے وہ تو سب رسول اللہ ہی کا ہے اور یہ کہتے ہوئے ان قیدیوں کو آزاد کرنے میں وہ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے لگے اور فضانعرہ ہائے جنگ اور زخمیوں کی چیخ و پکار کی بجائے آزادی کے ترانوں سے گونج اٹھی۔++ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بے حد رحیم و کریم تھے۔بنومی کے قیدیوں کی آزادی بھی آپ کے خلق کے ایک خاص پہلو پر روشنی ڈالتی ہے۔ان قید یوں کو صرف اس وجہ سے بغیر کسی