آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 245 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 245

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 240 باب پنجم اس دور میں اسیروں کی تعداد گزشتہ سب ادوار سے غیر معمولی طور پر زیادہ ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ صرف ایک جنگ حنین ہی میں چھ ہزار کی تعداد میں دشمن اسیر ہوئے۔آیئے ہم دیکھیں کہ ان اسیروں سے رحمتہ للعالمین نے کیا سلوک کیا۔کیا سب تہ تیغ کر دیئے گئے یا نوک مسنجر پر مسلمان بنالئے گئے ؟ نہیں ایک بھی نہیں بلکہ بلا استثناء سارے کے سارے غیر مشروط طور پر رہا کر دیئے گئے۔جنگ حنین کے چھ ہزا را اسیروں کو رحمتہ اللعالمین نے نہ صرف غیر مشروط طور پر رہا فرما دیا بلکہ ان میں سے بعض کو خلعتیں بھی عطا فرمائیں اور انعام واکرام سے نوازا۔رحم وکرم کی حد یہ ہے کہ ان میں سے بعض قیدیوں کا فدیہ بھی اپنی جیب سے ادا فرمایا۔اس قسم کے رحم و کرم کا سلوک بنی طے کے اسیران سے کیا اور حاتم کی بیٹی کو تو غیر معمولی اکرام کے ساتھ رخصت فرمایا۔اس کے علاوہ اس دور میں سیر یہ شیعہ بن حصین میں قبیلہ بنو تمیم کے باسٹھ اسیر مدینہ لائے 62 گئے مگر اس قبیلہ کے سردار انحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور رحم کی درخواست کی جس پر اس رحیم بخشم نے ان سب کو رہا فرما دیا۔آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیشہ جو سلوک جنگی قیدیوں سے روا رکھا وہ نہایت کریمانہ اور فیاضانہ تھا۔ظالم تو ظلم کا بہانہ ڈھونڈا کرتا ہے مگر آپ رحم و کرم کا بہانہ ڈھونڈ تے نظر آتے ہیں۔بنو ہوازن کے قیدیوں کو معاف کرنے کا واقعہ بھی عجیب ہے اور اسی ایک واقعہ ہی سے مفتوھین کے بارہ میں آپ کے جذبات اور طرز فکر کا پوری طرح اندازہ ہو جاتا ہے۔ان قیدیوں کے بارہ میں رحم کی درخواست کی غرض سے بنو ہوازن کا ایک وفد آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو حضرت حلیمہ دائی کا واسطہ دے کر جو اسی قبیلہ کی تھیں آپ سے معافی کا طلبگار ہوا۔اس وقت آپ نے ان سے یہ نہیں پوچھا کہ اب بارکھا جانے کے بعد تمہیں اپنے قبیلہ کی وہ دائی یا داگئی جس نے مجھے دودھ پلایا تھا مگر جب تم مکہ پر حملہ کی تیاریاں کر رہے تھے یا جب کنین کی وادی میں مجھ پر اور میرے ساتھ چند نر نھے میں آئے ہوئے فدائیوں پر تیروں کی بارش برسا رہے تھے تو اس وقت کیا تمہیں یاد نہ آیا کہ یہ تو وہی معصوم یتیم بچہ ہے جس نے ہمارے قبیلہ میں پرورش پائی تھی ؟ نہیں! آپ نے ایسا کوئی سوال نہیں کیا بلکہ فرمایا کہ جس قد رقیدی میرے اور