آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 244
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 244 باب پنجم اور یہ ایک واقعی بات ہے کہ جس دن آنحضرت ﷺ ناقل ) کو اپنے دشمنوں پر فتح حاصل ہوئی وہی دن آپ کو اپنے نفس پر سب سے زیادہ عالی شان فتح حاصل کرنے کا دن بھی تھا۔قریش نے سالہا سال تک جو کچھ رنج اور صدمے دیئے تھے اور بے رحمان تحقیر و تذلیل کی مصیبت آپ پر ڈالی تھی آپ نے کشادہ دلی کے ساتھ ان تمام باتوں سے درگزر کی اور مکہ کے تمام باشندوں کو ایک عام معافی نامہ دے دیا۔" دم منتخاب قرآن مقدمه صفحه ۶۷) یا شاید ہمارے بعض علماء کے دل کی آواز یہ کہے کہ مکہ کے تمام باشندوں کو ایک عام معافی نامہ دے دیا اور اہل مکہ کو بزور مسلمان بنانے کا ایک عظیم الشان موقع خود اپنے ہاتھوں سے کھودیا مگر واقعات سخت اور بے درد ہوتے ہیں اور کسی کی رعایت نہیں کرتے ہاں مگر واقعات سے آنکھیں موند لی جائیں تو ؟ اور واقعات سے آنکھیں موندی جا رہی ہیں۔آنحضرت ﷺ کی سراسر دفاعی جنگوں کو جارحیت اور تشدد کی جنگیں قرار دیا جا رہا ہے اور حد یہ ہے کہ یہ بے بنیا والتزام واضح تاریخی حقائق کے با وجو دلگایا جاتا ہے۔فتح مکہ سے لے کر وصال نبوی تک ممکن ہے کوئی یہاں پہنچ کر اس وہم میں مبتلا ہو جائے کہ جبری مسلمان کہیں فتح مکہ کے بعد کی جنگوں میں نہ بنائے گئے ہوں مگر فتح مکہ کے بعد کی جنگوں پر ایک نظر ڈالنے سے ہی اس وہم کی قلعی کھل جاتی ہے جو غالب کے اس شعر کے مصداق ہے کہ: تھی خبر گرم کے غالب کے اُڑیں گے پرزے دیکھنے ہم بھی گئے تھے پہ تماشا نہ ہوا چنانچہ فتح مکہ کے بعد کے غزوات و سرایا کے اعدادوشمار یہ ہیں: فتح مکہ کے بعد ایسے سراپا جن میں نہ کوئی لڑائی ہوئی نہ کوئی اسیر ہوا، نہ مال غنیمت ہاتھ آیا۔۳ ایسے غزوات یا سرایا جن جنگی قیدی ہاتھ آئے۔۴ جنگی قیدیوں کی کل تعداد = ۲۰۰۰+۶۲ + اسیران بنو کے +۱