آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 243 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 243

محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 243 باب پنجم کرنے کا وقت آیا اور نوک خنجر پر ایمان قلوب میں اتارنے کی مبارک گھڑی آ پہنچی۔وہ ساعت جب کہ مسلمان فاتحین کے خوف سے عرب سرداروں کے جسم لرزاں تھے اور سینوں میں دل کانپ رہے تھے۔جب مکہ کی بہتی ایک دھڑکتا ہوا دل بن گئی تھی تو کیوں اس فاتحین کے سردار نے شمشیر کی قوت سے ان کو مسلمان نہیں بنالیا ؟ اگر ایسا نہیں کیا اور یقیناً نہیں کیا تو پھر حیرت ہے کہ کس دل کے ساتھ یہ لوگ اس سب محبوبوں سے محبوب اور اس بے مثال دلوں کے فتح کرنے والے سے متعلق یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اس کی ہر قوت جاذبہ کی ناکامی کے بعد تلوار کی قوت کارگر ثابت ہوئی۔مولانا کے دل کا حال میں نہیں جانتا کہ یہ لکھتے ہوئے اس پر کیا گزری تھی یا کیا گزر سکتی تھی مگر اے کاش! کہ ان کا قلم پھٹ جاتا اور سیاہی خون ہو جاتی۔فتح مکہ کا دن تو وہ دن ہے کہ جوابدالآباد تک آنحضرت ﷺ کی پاک ذات سے جبر و تشد و کے الزام کی نفی کرتا رہے گا۔اس دن کی گواہی ایک ایسی پُر شوکت اور بلند با نگ کوا ہی ہے کہ کتنی ہی صدیاں گر گئیں مگر آج بھی مؤرخین کے کان اس کو سنتے اور ان کے دل اس پر ایمان لاتے ہیں۔یہ کوا ہی تو عیسائیوں نے بھی سنی اور اہل ہنود نے بھی اسے قبول کیا۔پھر حیرت ہے کہ مولانا کے کان اس بے مثال دن کی آواز سننے سے کیوں محروم رہ گئے ؟ اسی دن کی گواہی کا ذکر کرتے ہوئے ایک عیسائی مستشرق مسٹر شیلے لین پول لکھتے ہیں : اب وقت تھا کہ پیغمبر ( ناقل ) خونخوارانہ فطرت کا اظہار کرتے۔آپ کے قدیم ایذا دہندے آپ کے قدموں میں آپڑے ہیں۔کیا آپ اس وقت اپنے بے رحمانہ طریقہ سے ان کو پامال کریں گے ؟ سخت عقوبت میں گرفتار کریں گے یا ان سے انتقام لیں گے؟ سیہ وقت اس شخص کے اپنے اصلی روپ میں ظاہر ہونے کا ہے۔اس وقت ہم ایسے مظالم کے پیش آنے کے متوقع ہیں جن کے سننے سے رونگٹے کھڑے ہوں اور جن کا خیال کر کے اگر ہم پہلے ہی سے نفرین و ملامت کا شور مچائیں تو بجا ہے۔مگر یہ کیا معاملہ ہے؟۔کیا بازاروں میں کوئی خون ریزی نہیں ہوئی ؟۔ہزاروں مقتولوں کی لاشیں کہاں ہیں ؟ واقعات سخت اور بے درد ہوتے ہیں ( کسی کی رعایت نہیں کرتے )