آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 242
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 242 باب پنجم جواب دینے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے۔اس پر اس پر وفیسر نے کہا یہاں بحث کا وقت نہیں تم کو جو کچھ کہنا ہو میرے کمرہ میں آکر کہنا۔مگر ہم نے اسے یہ جواب دیا کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ہمارے آقا پر حملہ تو تم پر سیر عام کرو اور جواب ہم علیحدگی میں دیں ؟ چنانچہ جب ہم نے اس بارہ میں اپنے نقطہ نظر کی وضاحت کی تو ایک یہودی طالب علم اُٹھ کھڑا ہوا اور اس نے یہ اعلان کیا کہ" اگر چہ میں یہودی ہوں اور سب سے زیادہ مجھے اس بات پر غصہ ہونا چاہئے تھا مگر یہ بحث سننے کے بعد میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( ﷺ ) پر اس واقعہ سے ہر گز کوئی حرف نہیں آتا کیونکہ اول تو یہ فیصلہ ان کا نہیں تھا دوسرے سعد بن معاذ کا فیصلہ بھی میرے نز دیک درست تھا اور وہ خدارای لائق تھے کہ تہ تیغ کئے جاتے۔" آج تک اس شریف النفس یہودی کے الفاظ میرے کانوں میں کونج رہے ہیں اور میں تا دم مرگ اس کا ممنون احسان رہوں گا اور ہمیشہ دل سے اس کے لئے دعا نکلتی رہے گی کہ اس نے انصاف کو ہاتھ سے نہ چھوڑا اور غیر معمولی شرافت اور جرات کا اظہار کرتے ہوئے میرے محبوب آقا کی مدینت کی۔مگر جب میری نظر ان لوگوں کی طرف لوٹی ہے جن کے نزد یک بانی اسلام کے ایک ہاتھ میں تلوار تھی اور دوسرے میں قرآن تھا تو سینہ میں دل خون ہونے لگتا ہے۔فتح مکه صلح حدیبیہ تک کا دور ختم ہوا اور فتح مکہ کا دن آگیا جو دراصل حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات پر سے ہر تھڈو کے الزام کو دور کرنے کا دن تھا۔اس دن آنحضور نے کتھا یہ مکہ سر ایک عظیم فتح حاصل کی مگر کسی ایک شخص کو بھی تلوار کے زور سے مسلمان نہ بنایا۔پس میں اسی دن کا واسطہ دے کر یہ الزام لگانے والوں سے پوچھتا ہوں کہ جب وہ نبیوں کا سردار دس ہزار قد وسیوں کے ساتھ فاران کی چوٹیوں سے جلوہ گر ہوا اور ملنے کو اس کی شوکت اور جلال نے ڈھانپ لیا تو وہ جبر کی تلوار کیوں زیر نیام چلی گئی۔کیوں فتح مکہ کے دن جب مشرکین مکہ کی گردنیں اس رسول کے ہاتھ میں دی گئیں۔جب تلواروں کے سائے تلے سرکشوں کے سرخم