آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 241
فرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 241 باب پیجم پس ایک طرف تو قرآنی بیان کے مطابق بیرونی خطرہ ایسا شدید تھا دوسری طرف اندرونی خطرہ کی یہ حالت تھی کہ منافق کھلم کھلا مومنوں کے حوصلے پست کرنے میں مصروف تھے۔اسی اندرونی خطرہ کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالی انگلی آیت میں فرماتا ہے: وإذ يَقُولُ الْمَنْفِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ ما وَعَدَنَا الله و رَسُولُةَ إِلَّا غُرُوراتِ وَاذْقَالَتْ ظَابِفَةٌ مِنْهُمْ يَأَهْلَ يَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ (سورۃ الاحزاب: 13-14) فَارْجِعُوا اور جب منافق اور دلوں کے مریض یہ کہہ رہے تھے کہ خدا اور اس کے رسول نے ہم سے دھوکہ کے سوا اور کوئی وعدہ نہیں کیا اور جب ان میں سے ایک گروہ یہ کہتا تھا کہ یثرب کے رہنے والو! ( بھاگنے کا تو کیا سوال ) تمہارے لئے ٹھہرنے تک کو کوئی جگہ نہیں اس لئے (اپنے پہلے دین میں ) پھر جاؤ۔پس ان ہولناک ابتلاؤں کے وقت جبکہ مسلمانوں کو خطرات نے اوپر سے بھی آلیا تھا اور نیچے سے بھی۔اندر سے بھی اور باہر سے بھی ، بنو قریظہ جن کو معاہدہ کی رُو سے مسلمانوں کا ساتھ دینا چاہئے تھا ان کی کمینگی اور غداری کا یہ حال تھا کہ حملہ آوروں کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف عہد و پیمان کرنے لگے۔چنانچہ اس غداری کے نتیجہ میں جنگ احزاب کے بعد جب مسلمانوں نے ان پر غلبہ پالیا اور سزا کی تعین کا وقت آیا تو ان بد بختوں نے اپنی قسمت کا فیصلہ رحمة للعالمین کے ہاتھ میں چھوڑنے کی بجائے حضرت سعد بن معاذ کے ہاتھ میں دے دیا جن کے حکم سے سارے مرد یہ شیخ کئے گئے۔یہاں سوال زیر بحث یہ ہے کہ کیا ان کو بھی بزور شمشیر مسلمان بنایا گیا ؟ نہیں! ہرگز نہیں! پھر کیا میں مولانا سے یہ پوچھنے میں حق بجانب نہیں ہوں کہ آخر وہ کون لوگ تھے جو اسلام کی تلوار کے اثر سے مسلمان ہوئے؟ مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ تاریخ کے سبق کے دوران یونیورسٹی آف لندن کے تاریخ کے ایک متعصب پروفیسر نے اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ظلم کا الزام لگایا۔میں اور میرے ایک عزیز دوست میر محمود احمد صاحب ناصر اسے برداشت نہ کر سکے اور