آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 240 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 240

آنحضرت پیر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 240 باب هجم تیسرا بدقسمت یہودی قبیلہ بنو قریظہ ہے۔اس قبیلہ کی عذاری باقی تمام قبیلوں سے زیادہ سنگین تھی کیونکہ اس وقت جب کہ جنگ احزاب کے موقع پر دل ہلا دینے والے خطرات نے مسلمانوں کو چاروں طرف سے گھیر رکھا تھا اور مدینہ میں محصور قلیل العداد مسلمانوں اور کفار کے عظیم حملہ آور شکر کے درمیان صرف ایک تنگ خندق حائل تھی۔انہوں نے انتہائی کمینگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خطرناک بد عہدی کی اور دشمن کے ساتھ خفیہ سازشیں کرنے لگے۔اگر کوئی شخص آج اس خطرہ کا کچھ تصور باندھنا چاہئے تو اس کا صرف ایک طریق ہے کہ قرآن کریم کی ان آیات کا مطالعہ کرے جن میں خود خدا تعالیٰ اپنے الفاظ میں اس کا نقشہ کھینچتا ہے:۔إذْ جَاء وَكُمْ مِنْ فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ وَإِذْ زَاغَتِ الأَبْصَرُ و بلَغَتِ الْقُلُوبُ الحَنَاجِرَ وَتَظُنُّونَ بِاللهِ الظنونان هُنَالِكَ ابْتَلَى الْمُؤْمِنُونَ وَ زُلْزِلُوا زِلْزَ الَّا شَدِيدًا (سورۃ الاحزاب : 11-12) جب وہ (دشمن ) تمہارے اوپر سے بھی (حملہ کرتے ہوئے ) آئے اور نیچے سے بھی (یعنی بلندی کی طرف سے بھی اور ڈھلوان کی طرف سے بھی۔یا معنوی لحاظ سے جب تمہاری نجات کے سارے دروازے بند ہو گئے۔زمین بھی تنگ ہو گئی اور آسمان بھی ) اور جب آنکھیں پھر گئیں اور دل (مارے دہشت کے ) گلوں تک پہنچ گئے اور تم خدا کی نسبت طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔یہ تھا وہ مقام اور وہ وقت جبکہ مومن آزمائے گئے اور شدید زلازل کے جھٹکوں میں انہیں جتلا کیا گیا + یعنی جس طرح خوفناک زلزلوں کے جھٹکوں کے وقت عمارتوں کی مضبوطی آزمائی جاتی ہے اور ان عمارتوں کے سوا جن کی دیواروں میں سیسہ پلایا گیا ہو یا فولادی بندھنوں سے مضبوط کی گئی ہوں اور وہ گہری بنیا دوں پر مضبوط چٹانوں کی طرح قائم ہوں باقی تمام عمارتیں ان جھٹکوں کا شکار ہو کر پیوند خاک ہو جاتی ہیں۔اسی طرح مومنین کی اس عمارت کے لئے ایک دل ہلا دینے والی آزمائش کا دن تھا۔یہ وہ وقت تھا کہ خدا تعالیٰ اہل مدینہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے: " تم (اس شدید خطرہ کو دیکھ کر اللہ تعالی پر طرح طرح کے گمان کرنے لگ گئے تھے"