آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 239 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 239

محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 239 باب پنجم آوروں سے برسر پیکار تھے قبیلہ بنو قینقاع نے مدینہ پر بلوہ کیا اور فساد بر پا کیا اور سراسر جھوٹی اور سراسیمہ کرنے والی خبریں ان پھیلائیں۔آج بھی اس جرم کی سزا ہر رحمدل سے رحم دل حکومت الله کے نز دیک قتل کے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتی۔خصوصاً اس معاہدہ کے پیش نظر جو آنحضرت ﷺ نے مدنی دور کے پہلے سال ہی میں یہو د سمیت مدینہ کی تمام اقوام سے کیا تھا۔یہ تمام غذا قتل کئے جانے کے سزاوار تھے ”سیرت ابن ہشام جلد اول (مطبوعہ مطبع بولاق مصریہ ) کے صفحہ 178 پر یہ معاہدہ درج ہے۔اس معاہدہ کی شرائط میں سے تین یہ تھیں : جنگ کے دنوں میں یہودی مسلمانوں کے ساتھ مصارف میں شریک رہیں گے۔کوئی شخص اپنے معاہد کے مقابل پر مخالفانہ کارروائی نہیں کرے گا۔مدینہ کے اندر گشت و خون کرنا اس معاہدہ کرنے والی سب قوموں پر حرام ہو گا۔“ مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ازراہ شفقت محض جلا وطنی کی سزا پر اکتفا فرمائی میرا ایمان ہے کہ اگر یہ خطرہ نہ ہوتا کہ بعد کے حملہ آوروں کے ساتھ مل کر یہ بد عہد یہود مسلمانوں کو اس سے بھی زیادہ نقصان پہنچا ئیں گے تو آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو یہ سزا بھی نہ دیتے اور بالکل معاف فرما دیتے۔بہر حال امیر واقعہ یہ ہے کہ اس قبیلے کو باوجود غلبہ کے بزور شمشیر مسلمان نہیں بنایا گیا۔دوسرا یہودی قبیلہ جسے ارتکاب بغاوت پر اور اس جرم کی پاداش میں کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو زہر دے کر ہلاک کرنے کی کوشش کی جلاوطن کیا گیا ، قبیلہ بونیر تھا۔چونکہ مسلمانوں کے خلاف شرارتوں میں اور عہد شکنی میں سارا قبیلہ شامل تھا اور رسول اللہ کو بلاک کرنے کی کوشش ایک منظم سازش کا نتیجہ تھی اس لئے در اصل یہ کینہ تو بھی عہد شکنی دراصل الله کے نتیجہ میں اور آنحضور ﷺ کے اقدام قتل کے جرم میں انصاف اور خود بائیبل کے قانون کے مطابق بھی جو یہود کا قانون تھا اپنی زندگی کے حق سے محروم ہو چکے تھے لیکن ان کے ساتھ بھی اس لحاظ سے غیر معمولی نرمی کا سلوک کیا گیا اور صرف شہر بدر کرنے پر اکتفا کی گئی اور بہر حال یہ امر یقینی طور پر ثابت ہے کہ وہ تلوار کے زور سے مسلمان نہیں بنائے گئے۔