آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 238 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 238

نفرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 238 باب پنجم کہ ہم قیدیوں کے گروہ کے گروہ دیکھیں جو مسلمانوں کی تلواروں کے نیچے کانپتے ہوئے لا الہ الا اللہ پڑھ رہے ہوں بانظر یہ آتا ہے کہ مسلمانوں کی تلواروں کی وجہ سے نہیں بلکہ دشمن کی تلواروں کے خوف کے باوجود اہل عرب مسلسل مسلمان ہوتے چلے جارہے ہیں اور ہم دیکھتے یہ ہیں کہ باوجود اس کے کہ مظلوم مسلمان عمل امد بینہ کی ایک چھوٹی سی بستی میں قید ہیں جو اندر سے بھی محفوظ نہیں کیونکہ سارا عرب ان کی جان کا دشمن ہو رہا ہے مگر پھر بھی کچھ سر فروش ایسے ہیں جو مسلمان ہو ہو کر اس جماعت میں شامل ہوتے چلے جاتے ہیں۔اگر مخالفت کو ایک آگ سے تشبیہ دی جاسکتی ہے تو مدینہ میں مسلمانوں کا یہ حال تھا کہ ایک بھڑکتی ہوئی آگ کے بیچ گویا ایک نقطہ کی طرح تھے جسے جلا کر بھسم کر دینے کے لئے اس آگ کی شوریدہ لپٹیں بار بار بلند ہوتیں اور با اس کی طرف لپکتی تھیں۔ایک غضبناک اور مشتعل عرب کے درمیان مدینہ کی کمزور مسلمان اقلیت کی فی الواقعہ یہی مثال تھی۔یہ میں اس دور کا ذکر کر رہا ہوں جسے دشمنانِ اسلام آنحضرت ﷺ کی طاقت اور شمشیر کا دور کہتے ہیں۔پس اس دور میں جو لوگ مسلمان ہو کر مدینہ آ بیٹھتے تھے وہ تو الله جلانے والوں کو چھوڑ کر چلنے والوں میں شامل ہونے آیا کرتے تھے۔اکثریت کو چھوڑ کر اقلیت کی طرف بھاگتے تھے اور جو لوگ مدینہ کی طرف ہجرت نہیں کر سکتے تھے اور مخالف ماحول ہی میں رہنے پر مجبور تھے ان کی مثال بھی کچھ اس قسم کی تھی جیسے وحشی بھیڑیوں کے ایک غول میں کوئی بھیڑ یا بر ضاور محبت اچانک بھیٹر بن جائے۔اس بے چارے کے متعلق یہ کہنا کہ ایک چھوٹے سے بھیڑوں کے گلہ نے جو ایک بھیڑیوں سے بھرے ہوئے جنگل میں گھر اہوا تھا اسے ڈرا دھمکا کر اور مجبور کر کے بھیٹر بنایا ہے اس سے زیادہ تمسخر آمیز دعوئی اور کیا ہو سکتا ہے؟ یہود قبائل اور ان کے قیدیوں کا ذکر میں اس لئے الگ کر رہا ہوں کہ اس اندرونی خطرہ کی طرف بھی قارئین کی توجہ مبذول کراؤں جو ہر وقت مدینہ کے اندر سے انہیں لاحق تھا۔یہ تینوں قبائل ایسے بدعہد ، کمینہ فطرت اور دغا باز تھے کہ امن میں بھی مسلمانوں کو چین نہیں لینے دیتے تھے اور جنگ کے زمانے میں تو ان کی شرارتیں غیر مشکوک غداری میں بدل جاتی تھیں۔چنانچہ مسلمانوں سے دوستی کے معاہدہ کے باوجود اس وقت جبکہ بھی بھر مسلمان جنگ بدر میں حملہ