آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 237 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 237

فرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 237 باب هجم بنایا مگر تو بہ کا وعدہ لے کر چھوڑ دیا۔اس کے علاوہ سر یہ بنو کلاب اور سر یہ بشیر بن سعد انصاری میں چند گنتی کے قیدی ہاتھ آئے مگر ان کے حالات نا معلوم ہیں۔پس اس امر میں کوئی بھی شک نہیں کہ ہجرت سے لے کر فتح مکہ تک ایک بھی قیدی کو بزور شمشیر مسلمان بنانے کا ذکر نہیں ملتا اور نہ ہی ان سے متعلق یہ کہا جا سکتا ہے کہ تلوار نے تو صرف زنگ صاف کیا تھا۔اس کے بعد اسلام کا رنگ ان کے دلوں پر چڑھایا گیا۔کیونکہ واقعہ یہ ہے کہ انہیں پھر اسی زنگ آلو در شرک کی دنیا میں واپس جانے کی اجازت دے دی گئی۔پھر کیا مولانا مودودی بتا سکتے ہیں کہ آخر وہ کون لوگ تھے جن کو اپنی تمام اخلاقی اور روحانی قوتوں کی ناکامی کے بعد رسول اللہ اللہ نے نعوذ باللہ تلوار کی چمک دکھلا کر مسلمان بنایا تھا ؟ وہ کب پیدا ہوئے؟ کس جگہ کے رہنے والے تھے ؟ کہاں سے آئے تھے اور کہاں چلے گئے ؟ کیا انہیں زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا ؟ اور اگر ان کا وجود محض مولانا کے تصور کی پیداوار ہے اور یقینا انہیں کے تصور کی پیداوار ہے تو پھر کیوں سید ولد آدم پر ایسی سنگین اور بے بنیا دالزام تراشی سے نہیں رکتے۔اگر الخضرت ﷺ مذہب میں جبر کے قائل ہوتے تو کیوں نوک مسنجر پر ان بے بس قیدیوں کو مسلمان نہ بنالیا ؟ بنو قیقاع۔بنو نضیر اور بنو قریظہ مؤخر الذکر دونوں ادوار کے قیدیوں کی تعداد میں یہو دقبائل بنو قیقاع ، بنو نضیر اور بنو قریظہ کے قیدیوں کا شمار شامل نہیں جن کے ساتھ مختلف وقتوں میں مسلمانوں کو مقابلہ کرنا پڑا۔ان کا مختصر ذکر اب علیحدہ طور پر کیا جا رہا ہے۔اس حصہ مضمون کا تعلق محض اس الزام سے ہے کہ نعوذباللہ آنحضرت ﷺ کا غلبہ اسلام اخلاقی قوتوں کی بجائے تلوار کے زور سے ہوا تھا اور ہم اس وقت صرف اس امر کی چھان بین کر رہے ہیں کہ اس تمام جنگی دور میں کل کتنے ایسے قیدی ہاتھ آئے تھے جن کو بزور مسلمان بنالیا گیا تھا یا جن کے قبول اسلام پر یہ شبہ بھی پڑ سکتا ہے۔اب تک جو ہم نے جستجو کی ہے اس سے تو معاملہ بالکل بر عکس نظر آرہا ہے۔بجائے اس کے