آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 236 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 236

نحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 236 باب پنجم ہوئے۔خواہ لڑائی ہو ، چور ڈاکو کا تعاقب ہو یا دیکھ بھال کے لئے کوئی پارٹی باہر جائے وغیرہ وغیرہ۔اسی طرح سمریہ سے مراد بھی مہمات ہی ہیں۔فرق صرف یہ ہے کہ ہر یہ میں رسول اللہ شامل نہیں ہوئے۔اس کے علاوہ تبلیغی سفر بھی غزوہ اور سریہ میں شمار ہوتے ہیں اور کسی صحابی کی انفرادی مہم بھی سریہ ہی کہلاتی ہے۔چنانچہ اس دور میں گل پچاس غزوات و سرایا ہوئے جن میں سے جنگ کہلانے کے مستحق صرف تین ہیں: جنگ اُحد ، جنگ بدر اور جنگ احزاب۔ان پچاس میں سے 42 میں کوئی اسیر نہیں ہوا۔جن آٹھ میں اسیر ہوئے ان میں سے قابل ذکر تعداد جنگ بدر کے اسیروں کی ہے۔گل 172 امیر تھے جن میں سے دو پرانے جرموں کی پاداش میں قتل کئے گئے اور باقی سب کو فدیہ لے آزاد کر دیا گیا۔ان میں سے بعض کا فدیہ یہ تھا کہ انصار بچوں کو لکھنا سکھا دیں۔جنگِ اُحد میں کوئی دشمن قید نہیں ہوا نہ ہی جنگ احزاب میں کوئی قید ہوا۔غزوہ بنی مصطلق میں سو سے اوپر زن و مرد اسیر ہوئے مگر سب کو بلا معاوضہ و بلا شرط آزاد کر دیا گیا۔اس کے علاوہ چند ایک سر توں میں ایک ایک دو دوقیدی ہاتھ آئے جو بلا معاوضہ و بلا شرط رہا کئے گئے۔یہ سب حقائق وہ ہیں جو خود مولانا مودودی۔ناقل ) کو بھی تسلیم ہیں۔مگر میں کہتا ہوں کہ اگر بفرض محال یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ یہ سب جنگی قیدی بزور شمشیر مسلمان بنالئے گئے تھے تو بھی ان کی تعداد اتنی قلیل اور نا قابل ذکر ہے کہ اس کی مہاجرین اور انصار کے سواد اعظم کے مقابل پر کوئی بھی حیثیت نہیں اور اس کو بنیا د بنا کر وہ نتیجہ بہر حال مترتب نہیں ہوتا جو مولانا مودودی نے مرتب فرمایا ہے۔یہ انہیں زیب نہیں دیتا۔ایسی باتیں تو ان متعصب معاندین کا شیوہ ہے جو اپنے بعض باطنی سے مجبور ہو کر آنحضرت ﷺ پر الزام تراشی کے لئے تنکوں کے سہارے ڈھونڈا کرتے ہیں۔تیسرا دور صلح حدید یه تاریخ مکہ 22 اس دور میں ہونے والے غزوات و سرایا کی تعداد یا ئیں ہے۔ان میں سے صرف تین ایسے تھے جن میں جنگی قیدی ہاتھ آئے۔ایک سریہ سمی ( جمادی الآخر 7 ھ ) ہے جس میں حضرت زید بن حارثہ نے ھید ڈاکو اور اس کے ساتھی لٹیروں پر چڑھائی کی اور سوالٹیروں کو اسیر